معاشرے میں عدم برداشت کا خطرناک رجحان

معاشرے میں عدم برداشت کا خطرناک رجحان

 

تحریر : انعام چودھری

 

 

معاشرے کی عمارت اخلاقیات برداشت اور رواداری اور محبت کے ستونون پے کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ سب سماج سے ختم ہوجاتی ہیں تو معاشرہ تباہی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے یہ صورتحال ہمارے معاشرے کو بھی درپیش ہے جہاں عدم برداشت کا سرعت اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کے جسکی کوئی حد نہیں ہمارے سماج میں عدم برداشت کی یہ کیفیت ظاہر قاتل ہے یہ آہستہ آہستہ معاشرہ کی بنیاد کو کھوکھلا کر رہی ہے انسانوں کے درمیان سیاسی معاشی ۔و۔ سماجی اختلافات ایک فطری عمل ہے لیکن یہ اخلافات جب حد سے تجاوز کر جاتے ہیں تو یہ جھگڑے کا سبب بنتے ہیں

 

عدم برداشت کی وجہ یہ بھی ہے کے ہم نے مکالموں اور فطری مباحثوں کو پس پشت ڈال کر غیر فطری چیزوں پے وقت برباد کرنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

عدم برداشت سے مطلق کافی واقعات سوشل میڈیا پے ملتے ہیں اس کی وجہ سے تشدد پسند سرگرمیاں سامنے آ رہی ہیں اسی حوالے سے چند روز قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک چھوٹی بچی کو چائے میں پتی زیادہ ڈالنے پے ایک خاتوں نے بچی پر تشدد کیا ایسی مثالیں کسی اور معاشرے میں ملنا مشکل ہیں اس عورت نے چھوٹی سی بات پے بچی کو سزا دی ۔۔۔۔

 

 

اس پر عوام نے کافیغم و غصّہ ظاہر کیا اور حکومت بھی حرکت میں آ گئی چلو یہ تو ایک معمولی سی بات تھی ہمارے معاشرہ میں تو باپ محض گول روٹی نا بنانے پر بیٹی کو قتل کر چکا ہے

 

 

عدم برداشت کی بد ترین مثال لاہور میں سامنے انے والا ایک واقعہ بھی ہے جس میں کپڑا چوری کرنے کے الزام میں نا صرف دو خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکے انھیں اغواہ بھی کر لیا گیا ۔

 

 

رپورٹ کے مطابق لاہور جلو کے علاقے کے دکان داروں نے خواتین پر مکوں اور گھونسوں کی بارش کر دی اور قانون کی دھجیاں اڑا دیں یہ انتہائی افسوسناک واقعہ جسکی جتنی مزمت کی جائے کم ہے عورتوں پے بیمانہ تشدد ہمارے معاشرے کے ماتھے پے کلنک ہے جو کبھی مٹ نہیں سکے گا

ہمارے معاشرے کے مہذب لوگ غلط اور درست کی پیچان کرنے کی تمیز رکھتے ہیں مگر افسوس کے جب وو خود ایسے معاملات کا شکار ہوتے ہیں تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اور خود بھی اسی ناسور کا شکار ہو جاتے ہیں

 

 

ایک طالب علم کی ہی اگر ہم مثال لیں تو اسے جب اسکول میں بھجا جاتا ہے تو اسے ایسا ماحول دیا جاتا ہے کے کالج تک پنچتے پنچتے اسکے اندر شدت پسندی اختیار کر دی جاتی ہے اور کالجزون میں بھی فکری عمل کو چھین کر ایک ذہنیت تیار کردی جاتی ہے اور وہی طالب علم جب تعلیم سے فارغ ہو کر پریکٹیکل زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اپنے سے کم تعلیم یافتہ لوگوں کو نہیں جانچ پاتا کیوں کے یہ ادارے اسے نہیں سکھا پاتے کے لوگوں کے ساتھ اپنا رویہ کیسا رکھنا ہے ۔

 

 

ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ہم بھی ونچی آواز میں بولنے والے اور فورا جواب دینے والے کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوسروں کی بات کوکاٹنا اور اہمیت نا دینا ہی ذہانت کی علامت سمجھا جاتا ہے عدم برداشت آہستہ آہستہ ہمیں شدت پسندی کی طرف لے جاتی ہے ۔

 

 

جس سے معاشرہ کا امن و سکوں برباد ہوجاتا ہے عدم برداشت کی یہ کیفیت ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اگر ہمیں اپنے سماج کو اس سے بچانا ہے تو اپنے رویے میں نرمی لانا ہوگی ہمیں ماننا ہوگا کے سماج کا انحصار رواداری اور اخلاقیات پر ہے

 

 

 

یہ حقیقت ہے کے ہمیں اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنا ہوگا صرف اس سے ہی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے صرف برداشت پیدا کر کے ہی ہم اپنا امن و چین لوٹا سکتے ہیں انسان ہونے کے ناطے کسی پر بھی ظلم کرنا ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے لہٰذا اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جائے ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور انسانیت کا درس دیا جائے

تحریر : انعام چودھری

ennpak

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پاکستان پیپلز پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام شمولیتی پروگرام اشرف سرپرہ کا اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان

پیر مارچ 29 , 2021
کوئٹہ: نمائندہ خصوصی . احد حسین پاکستان پیپلز پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام شمولیتی پروگرام اشرف سرپرہ کا اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کوئٹہ:شمولیتی تقریب سے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک، صوبائی جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ، سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند خان جوگیزئی،چئیرمین بلاول […]

کیلنڈر

دسمبر 2021
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031  
%d bloggers like this: