زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟‎

لاہور: ( سیف الرحمان ۔ نمائندہ ) پاکستان اور انڈیا سمیت مختلف ملکوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔
 زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 6 اعشاریہ چار ریکارڈ کی گئی.
پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس سے در ودیوار ہل کر رہ گئے۔ لوگ کلمہ طیبہ کو ورد کرتے گھروں سے نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، سوات، مظفر آباد، لوئر دیر، بھلوال، ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، بھکر، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت ملک بھر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 80 کلومیٹر جبکہ مرکز تاجکستان اور افغانستان کی سرحد تھی۔
زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟
زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔
زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔
کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔
پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔
کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔
کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔
( سیف الرحمان ۔ نمائندہ )

ennpak

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ضمنی انتخابات کےلیے تحصیل انتخابی دفتر کا دورہ ‎

جمعہ فروری 19 , 2021
عبدالقدیر  ۔ تحصیل رپورٹر آج سرانان میں  حاجی عبدالشکور  خان اچگزئی نے  ضمنی انتخابات  کےلیے  تحصیل انتخابی  دفتر  کا دورہ  کیا اور تحصيل  سرانان کے امیر  مفتی سید محمد آغا  اورعہدداران کے ساتھ  انتخابات کی تیاریوں اورسیاسی جماعتی امور پر تبادلہ خیال کیا

کیلنڈر

جولائی 2021
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  
%d bloggers like this: