41

’خوش قسمت ہوں کہ تمام حرکتوں کے باوجود میرا نام می ٹو کا حصہ نہیں بنا‘

بھارت میں جاری می ٹو مہم کا سہارا لیتے ہوئے بولی وڈ کی کئی نامور شخصیات پر بھی خواتین نے جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا، تاہم معروف اداکار شتروگن سنہا کا نام اب تک کسی خاتون نے نہیں لیا جس کے لیے وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہین۔

شتروگن سنہا کا کہنا تھا کہ بولی وڈ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اتنا بڑا نام ہونے کے باوجود ان کا نام می ٹو مہم کے ذمہ داروں میں سامنے نہیں آیا اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے۔

اداکار کتاب کی رونمائی تقریب کا حصہ بنے، جہاں انہوں نے میڈیا سے بات چیت کی۔

اس دوران ان کا کہنا تھا کہ ’یہ می ٹو مہم کا وقت چل رہا ہے اور ایسا کہنے میں کوئی شرمندگی یا ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ ہر کامیاب آدمی کی ناکامی کے پیچھے ایک خاتون ہے، میں نے تو یہی دیکھا ہے کہ ہر کامیاب آدمی کی مشکلات اور اس کی رسوائی کے پیچھے کوئی خاتون ہی ہوتی ہے، میں نے تو زیادہ تر خواتین کو ہی اس مہم کا حصہ بنتے دیکھا ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاحال وائف کارڈ (اہلیہ کا نام) استعمال کرکے اور خوشحال شادی شدہ زندگی دکھا کر ان کا نام اس مہم کا حصہ نہیں بن پایا۔

شتروگن سنہا کے مطابق ’میں خود کو خوش قسمت مانتا ہوں کہ آج کے دور میں تمام حرکتیں کرنے کے باوجود میرا نام می ٹو مہم کا حصہ نہیں بنا، اس لیے میں اپنی اہلیہ کی سنتا ہوں اور اکثر انہیں ڈھال بنا کر اپنے ساتھ لے کر جاتا ہوں، کہ اگر کچھ نہ بھی ہو تو میں یہ دکھا سکوں کہ میں اپنی شادی شدہ زندگی میں خوش ہوں اور میری زندگی اچھی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی میرے بارے میں کچھ کہنا بھی چاہتا ہے تو برائے مہربانی نہ کہے‘۔

شتروگن سنہا یہ ظاہر کررہے تھے کہ وہ میڈیا کے سامنے مذاق کررہے ہیں، اس ہی لیے انہوں نے میڈیا سے گزارش بھی کی کہ ان کی باتوں کو مذاق سمجھا جائے۔

اداکار کے مطابق ’ان باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیں، مذاق سمجھیں، میں ان خواتین کی تعریف کرتا ہوں جو دیر سے ہی صحیح پر سامنے آئیں، میں ان کی ہمت کو سلام کرتا ہوں‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال شتروگن سنہا کے دوست اور ہدایت کار سبھاش گھائے پر بھی ایک خاتون نے جنسی طور پر ہراساں اور ریپ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

جس کے بعد شتروگن سنہا نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے قریبی دوست اور ہدایت کار سبھاش گھائے پر لگے جنسی ہراساں اور ریپ کے الزامات ثابت بھی ہوجائیں تو اس کے باوجود بھی وہ ان کے ساتھ کام ضرور کریں گے۔

جب شتروگن سنہا سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ سبھاش گھائے کے ساتھ دوبارہ کام کریں گے تو اداکار نے کہا تھا کہ ’کیوں نہیں؟ اگر وہ بےقصور ثابت ہوئے تب بھی اور اگر ان پر لگا الزام ثابت ہوگیا اور انہوں نے اپنی سزا بھی پوری کرلی تو میں ان کے ساتھ کام کروں گا، سنجے دت نے گناہ گار ثابت ہونے کے بعد اپنی سزا پوری کی، اور ہماری انڈسٹری کے افراد نے ان کے ساتھ اچھا سلوک رکھا‘۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 73 سالہ ڈائریکٹر سبھاش گھائے کے خلاف بھی 2 خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

کم سے کم 30 معروف بولی وڈ فلموں کی ہدایات دینے والے سبھاش گھائے کے خلاف ٹوئٹر پر ایک خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈائریکٹر نے ایک خاتون کو زبردستی شراب منشیات دینے کے بعد ریپ کا نشانہ بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں