65

نقاش پاکستان : چوہدری رحمت علی

یوم وفات چوہدری رحمت علی ۔

03 فروری 1951

نقاش پاکستان ۔

پاکستان کا نام رکھنے والا پہلا پاکستانی جو آج بھی پاکستان میں دو گز زمین نہ پا سکتا۔

چوہدری رحمت علی 16 نومبر 1897ء میں ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کی تحصیل گڑھ شنکر کے ایک گاؤں موہراں میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حاجی شاہ محمد تھا جو ایک معمولی زمیندار تھے۔ رواج کے مطابق ابتدائی تعلیم قران مجید کی حاصل کی ۔ اینلگو سنسکرت ہائی اسکول سے 1913 میں میٹرک کی سند حاصل کی۔ ایف اے اور بی اے بالترتیب 1915ء اور 1918 میں اسلامیہ کالج سے پاس کئے۔ 1925 تک آپ لاء کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے جہاں سے آپ نے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

چوہدری رحمت علی اسلامیہ کالج لاہور کے نامور طالب علم تھے۔ جنوری 1931 میں انھوں نے کیمبرج کے کالج ایمنویل میں شعبہ قانون میں اعلٰی تعلیم کے لئے داخلہ لیا۔ اسلامیہ کالج کے مجلے “دی کریسنٹ” کے ایڈیٹر اور اور کئی دیگر طلباء سے متعلق بزموں کے عہدیدار بھی رہے ۔ اسلامیہ کالج میں بزم شبلی قائم کی ، جس کے 1915ء کے اجلاس میں محض 18 برس کی عمر میں تقسیم ملک کا انقلاب آفرین نظریہ پیش کیا ، جس کی مخالفت پر آپ اس بزم سے الگ ہو گئے ۔ آپ نے یہ نظریہ پیش کرتے ہوئے فرمایا

“ہندوستان کا شمالی منطقہ اسلامی علاقہ ہے ، ہم اسے اسلامی ریاست میں تبدیل کریں گے ، لیکن یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اس علاقے کے باشندے خود کو باقی ہندوستان سے منقطع کر لیں۔ اسلام اور خود ہمارے لئے بہتری اسی میں ہے کہ ہم ہندوستانیت سے جلد سے جلد جان چھڑا لیں”

آپ نے “پاکستان دی فادرلینڈ آف پاک نیشن” ، “مسلم ازم” اور “انڈس ازم” وغیرہ کتابچے بھی لکھے۔چوہدری رحمت علی ایچی سن کالج لاہور میں لیکچرار مقرر ہوئے اور جیفس کالج میں بھی ملازمت کی۔ آپ نے بعض اخباروں میں ملازمت بھی اختیار کی۔

1933 میں آپ نے لندن میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔

28 جنوری 1933 وہ دن تھا جب آپ نے “اب یا پھر کبھی نہیں” (Now OR Never) کے عنوان سے چار صفحات پر مشتمل شہرہ آفاق کتابچہ جاری کیا ۔ جو تحریک پاکستان کے قلعے کی آہنی دیوار ثابت ہوا۔ اور برصغیر کے مسلمانان و دیگر اقوام لفظ “پاکستان” سے آشنا ہوئے ۔آپ کے مطابق آپ نے یہ نام پنجاب (پ) افغانیہ (ا) کشمیر (ک) سندھ (س) اور بلوچستان (تان) سے اخذ کیا جہاں مسلمان 1200 سال سے آباد ہیں۔

1935 میں آپ نے ایک ہفت روزہ اخبار “پاکستان” کیمبرج سے جاری کیا۔ اور اپنی آواز پہنچانے کے لئے اور فرانس کا سفر کیا اور جرمنی کے ہٹلر سے انگریزوں کے خلاف مدد کا وعدہ لیا۔ اس کے علاوہ اسی سلسلہ میں امریکہ اور جاپان وغیرہ کا سفر بھی اختیار کیا۔

ایسے وقت میں جب ہندو و مسلم قائدین لندن میں جاری گول میز کانفرنسوں کے دوران وفاقی آئین کے بارے میں سوچ رہے تھے ، یکم اگست 1933 کو جوائینٹ پارلیمینٹری سلیکٹ کمیٹی نے چودھری رحمت علی کے مطالبہ پاکستان کا نوٹس لیتے ہوئے ہندوستان وفد کے مسلم اراکین سے سوالات کئے۔ جوابا سر ظفر اللہ۔ عبداللہ یوسف علی اور خلیفہ شجاع الدین وغیرہ نے کہا کہ یہ صرف چند طلباء کی سرگرمیاں ہیں ، کسی سنجیدہ شخصیت کا مطالبہ نہیں جس پر توجہ دی جائے۔

1938 میں آپ نے بنگال ، آسام اور حیدرآباد دکن کی آزادی کے حق میں بھی آواز بلند کی اور “سب کانٹیننٹ آف براعظم دینیہ ” کا تصور پیش کیا۔ جن میں پاکستان ، صیفستان ، موبلستان ، بانگلستان ، حیدرستان ، فاروقستان ، عثمانستان وغیرہ شامل تھے۔ جن میں جغرافیائی محل وقوع کا تعین کیا گیا تھا اور با قاعدہ نقشے دئیے گئے تھے ۔ اور 8 مارچ 1940 کو کراچی میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی سپریم کونسل سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے حیدر آباد دکن کے لئے “عثمانستان” کے نام سے آزاد اسلامی ریاست کا خاکہ پھر پیش کیا۔

مورخ ڈاکٹر راجندر پرشاد اپنی کتاب India Divided میں رقمطراز ہیں کہ
“جہاں تک مجھے علم ہے چوہدری رحمت علی پاکستان نیشنل موومنٹ کے بانی صدر ہیں۔ وہ واحد شخص ہیں جو ہندوستان کی وحدت کو تسلیم کئے جانے کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے مسلمانوں کو ظلم و بربریت میں مبتلا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں”

مشہور ترک ادیبہ خالدہ خانم کی مشہور کتاب Inside India کا ایک باب چوہدری رحمت علی کے انٹرویو پر مشتمل ہے جو 1937 میں پیرس میں شائع ہوئی۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ
“پاکستان نیشنل موومنٹ کا منصوبہ فرقہ واریت سے الگ بات ہے۔ تحریک کے مطابق ہندوستان موجودہ حالت میں ایک ملک نہیں۔ بلکہ برصغیر ہے جو دو ملکوں ہندوستان اور پاکستان پر مشتمل ہے۔ تحریک کا بانی چوہدری رحمت علی کو قرار دیا جاتا ہے ، وہ قابل ترین قانون دان ہے لیکن وکالت ترک کر کے انھوں نے پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت ان کی زندگی کا غالب مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کا مستقبل ہے ۔ میں نے ملاقات کے دوران یہ محسوس کیا ہے کہ یہ تلخی جو ان کے دل میں ہے ہندوؤں کی معتصبانہ اور اسلام دشمن ذہنیت سے جوانی میں پیدا ہو گئی تھی ہرگز ان کے نظریہ پاکستان پر اثر انداز نہیں ہوئی اور وہ اس تحریک کی بنیاد ہندو عداوت پر نہیں رکھتے”

آپ لاہور میں ہونے کے باوجود 1940 کےمسلم لیگ کے تاریخ ساز جلسے میں شرکت نہ کر سکے کہ خاکسار تحریک اور پولیس میں تصادم کے باعث اس کشیدہ صورتحال میں پنجاب حکومت نے آپ پر پنجاب میں داخلے کی پابندی عائد کر دی۔ جبکہ بعض حلقوں کے مطابق اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ “مسلم لیگ” کے ساتھ “آل انڈیا” کے لفظ کا استعمال تھا۔ کیونکہ آپ اس کے سخت مخالف تھے اور اس خطے کا ذکر برصغیر یا دینیہ کہہ کرکرتے تھے۔

آپ مسلمانوں کو برصغیر کے اصل وارث سمجھتے تھے کیونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے ہی حکومت چھینی تھی اور تمام برصغیر کو ایک ریاست میں متحد کرنے والے بھی مسلم ہی تھے۔ اس جلسے میں اگرچہ آپ کا تجویز کردہ نام “پاکستان” شامل نہیں تھا مگر برصغیر کے ہندو پریس نے طنزاً اسے قرارداد پاکستان کہنا شروع کیا اور بالاخر یہ طنز سچ کا روپ دھار گیا۔

قیام پاکستان کے بعد آپ دو بار پاکستان تشریف لائے مگر نامناسب حالات اور رویوں کے باعث آپ دلبرداشتہ ہو کر دوبارہ برطانیہ چلے گئے اسی دوران آپ کا 20 مئی 1948 کو پاکستان ٹائمز میں انٹرویو بھی شائع ہوا۔

آپ کا آخری پتہ 114 ہیری ہٹن روڈ تھا اور آپ مسٹر ایم سی کرین کے کرائے دار تھے۔ مسٹر کرین کی بیوہ کے مطابق چوہدری رحمت علی اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھتے تھے ۔ جنوری کے مہینے میں سخت سردی کے دوران ایک رات آپ ضرورت کے کپڑے پہنے بغیر باہر چلے گئے اور واپسی پر بیمار ہو گئے ۔ آپ کو ایولائن نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا جہاں آپ کا ہفتے کی صبح انتقال ہوا۔

ایمنوئیل کالج ، کیمبرج شہر کے قبرستان اور کیمبرج کے پیدائش و اموات کے ریکارڈ کے مطابق 3 فروری 1951 بروز ہفتہ کی صبح اس عظیم محسن نے کسمپرسی کی حالت میں برطانیہ میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔

17 روز تک کولڈ اسٹوریج میں ہم وطنوں ، ہم عقیدوں ، ہم مذہبوں کا انتظار کرتے کرتے بالاخر دو مصری طلبہ کے ہاتھوں اس غریب وطن کو کیمبرج کے قبرستان کی قبر نمبر بی – 8330 میں دفن کر دیا گیا
(کیمبرج سمیٹری ، مارکٹ روڈ – کیمبرج – برطانیہ) ۔

وزراتوں ، الاٹمنٹوں ، کلیموں ، ہوس اقتدار کے ماروں کو خبر بھی نہ ہوئی کہ صف اول کا مجاہد 200 پونڈ کا قرض اپنی تجہیز و تکفین کی مد میں کندھوں پر لے چلا ہے ۔مگر سات دہائیوں کے بعد بھی امانتاً دفن کیا گیا اس مجاہد کا جسد خاکی جس نے مسلمانان برصغیر کے لئے نہ صرف خواب دیکھے بلکہ ان کی تعبیر کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا یونہی دیار غیر میں چند گمنام مقبروں کے درمیان سال بہ سال جمنے والی دھول میں غائب ہو جائے گا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس کے نام تک سے نہ آشنا ہو ں گی ؟

کیا زندہ قوموں کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں سے اس قدر بے رحمی سے پیش آیا کرتی ہیں ؟

آخر ان 22 کروڑ پاکستانیوں میں اس پہلے پاکستانی کی کچھ تو وقعت ہو گی ۔ ۔ ۔ ؟

تحریر ( انجینئر رانا بلال )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں