39

سوچیے بھی احتیاط سے، دماغ کا پڑھا جانا ممکن ہو گیا!

امریکی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ دماغی لہروں کو براہ راست زبان پر منطبق کر لیا گیا ہے۔ اس کامیابی کی بدولت دماغ کا پڑھا جانا ممکن ہو جائے گا۔

امریکا میں کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ دماغ اور دماغی سرگرمیوں پر تحقیق کرنے والے ماہر سائنس دانوں نے کہا ہے کہ سوچنے کے عمل کو زبان دے دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کی بدولت فالج سے متاثرہ افراد کی جسمانی بحالی میں بھی مدد مل سکے گی۔

نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے زکرمین انسٹیٹیوٹ سے منسلک سائنس دان اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہو جائے گا کہ انسانی دماغ کے سوچنے کے عمل کو بھی پڑھا جا سکے۔

زکرمین انسٹیٹیوٹ سے وابستہ نیورو انجینیئرز کی ایک ٹیم کچھ عرصے سے ’قوت سامعہ کے محرک کی تعمیر نو‘ auditory stimulus reconstruction کی ایک تکنیک پر کام کر رہی ہے۔ معتبر تحقیقی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اس مخصوص تکنیک کے ذریعے انسانی دماغ کے ساتھ براہ راست مکالمت ممکن ہو سکتی ہے۔

بنیادی طور پر اس طریقہ کار سے دماغی سرگرمیوں کو لہروں یا سگنلز کے ذریعے مکالمے کی شکل دی جا سکے گی۔ بتایا گیا ہے کہ ابتدائی تجربات میں آڈیو کوالٹی زیادہ بہتر نہیں ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تکنیک میں بہتری آ سکے گی اور ایک دن سائنس دان انسان کے سوچنے کے عمل کو مکالمے کے طور پر پورا سن سکیں گے۔

یہ ٹیکنالوجی بالخصوص فالج کے مریضوں یا مجموعی طور پر دماغی اعصابی نظام کی کارکردگی میں خلل سے متاثرہ افراد کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق فی الحال اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے زیر مطالعہ فاعل کا رضا مند ہونا ضروری ہے اور اس کے دماغ کے ساتھ مختلف تاریں لگائی جاتی ہیں، جو لہروں کو ڈی کوڈ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی ترقی کرتے ہوئے اس قابل ہو جائے گی کہ فاعل کی رضا مندی اور بڑے بڑے آلات یا لمبی تاروں کے بغیر بھی انسانی دماغی سرگرمی کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ فرد کی سوچ کو پڑھا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں