30

لاپتا افراد کے مقدمات سول عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے ایک تاریخی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت جو لوگ شہریوں کے اغوا میں ملوث ہوں گے ان پر پاکستان پینل کوڈ (پی پی پی) کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے انسانی حقوق کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کسی فرد یا تنظیم کی جانب سے جبری طور پر کسی کو لاپتا کرنے کی کوئی بھی کوشش کو جرم قرار دینے کے لیے پی پی سی میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ’اس فیصلے کے بعد جو لوگ شہریوں کے اغوا میں ملوث ہوں گے سول عدالتوں میں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا‘۔

خیال رہے کہ لاپتا افراد اور جبری گمشدیوں کا معاملہ سابق حکومتوں کے لیے ایک چیلنجنگ ٹاسک تھا کیونکہ اس لاپتا افراد کی فہرست مسلسل ابھرتی جاری رہی تھی۔

تنازع زدہ قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں رہنے والے لوگ جبری گمشدگیوں سے متعلق شکایات کرتے نظر آرہے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے اس مسئلے پر ایک ٹھوس موقف اپنایا تھا اور اسے کئی مرتبہ اٹھایا تھا، ان کا ماننا تھا کہ ’لاپتا افراد کو خفیہ اداروں کی جانب سے اٹھایا جاتا ہے، اس طرح انہیں قانون کی عدالت میں اپنا دفاع کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی‘۔

دوسری جانب گزشتہ برس 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے جبری گمشدگی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ نامعلوم مقامات سے شہریوں کی گمشدگی اور اغوا میں ملوث شخص پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔

یہ 47 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ ( جو ابھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) نے اسلام آباد کے علاقے ایف 10 میں گھر سے اغوا ہونے والے لاپتا آئی ٹی ایکسپرٹ کے کیس میں تحریر کیا تھا، جس میں جبری گمشدگیوں میں ملوث حکام کے لیے سخت نتائج وضع کیے تھے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے محمود کی بازیابی میں کرمنل جوڈیشل سسٹم کی ناکامی کے لیے کچھ حکومتی اداروں کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور ان پر جرمانہ کیا تھا، ساتھ ہی فیصلے میں خفیہ اداروں پر ناراضی کا اظہار کیا گیا تھا اور وفاقی حکومت کو لاپتا افراد کے اہل خانہ کے ماہانہ اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ لاپتا افراد کے کمیشن کے مطابق انہوں نے 30 نومبر تک 5ہزار 6سو 8 کیسز میں سے 3 ہزار 4سو 92 نمٹا دیے۔ کمیشن کوگزشتہ برس 31 اکتوبر تک 5 ہزار 5سو 7 کیسز جبکہ نومبر تک مزید 111 کیسز موصول ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں