94

سوال تو اٹھتا ہے

تحریر: فضہ حسین:

جامعۂ بہاؤالدین زکریا ملتان

اس غم زدہ سے پوچھ وقت سحر کی قیمت

جلتا ہے جس کا خون چراغوں میں رات بھر

اپنے دل کا حال کیا بیان کروں جو غم سے بھرا ہوا ہے اور اک بے بسی کی کیفیت ہے جس نے مجھے آواز اٹھانے پر مجبور کردیا ۔میرے ساتھ پورے پاکستان کا دل سانحہ ساہیوال کے غم سے بھرا ہوا ہے اور اس دکھ میں مزید شدت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ننھے یتیم ہونے والے پچوں کے چہروں پر بے بسی، خوف اور اپنوں کو کھونے کا دکھ نظر آتا ہے ۔جب بھی کسی بے گناہ کو مار کر اسے دہشگرد اور ڈاکو قرار دے دیا جاتا ہے تو میری نظروں کے سامنے اسی نوعیت کے گزشتہ تمام واقعات گھومنے لگتے ہیں تو پہلا سوال اسی وقت اٹھ جاتا ہے کہ کیا اس واقعے کو انصاف ملے گا۔۔؟؟؟؟یا اس واقعے کو بھی کوئی کارنامہ قرار دے دیا جائے گا یا پھر بغیر انصاف کیے کوئی دوسرا ایشو کھڑا کر کے اس سانحے پر مٹی ڈال دی جائے گی؟؟؟؟

19جنوری کی دوپہر

تقریبا 12بجے ٹول پلازا کے قریب قادر آباد میں یہ واقعہ پیش آیا۔جس میں رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس کائونٹر ٹیررازم (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے لاہور سے آنے والی گاڑی کو روکنے کے لئے سیدھی فائرنگ شروع کردی جوکہ گاڑی کے ٹائروں اور گاڑی میں موجود لوگوں کو لگیں۔بچوں اور خواتین نے چیخ و پکار اور رونا شروع کر دیا ۔سی ٹی ڈی اہلکاروں کے قریب آتے ہی زخمی خلیل نے منتیں شروع کر دی ۔ہماری تلاشی لے لو ،ہم غیر مسلح ہیں، شادی میں جا رہے ہیں ہمیں چھوڑ دو، جو لینا ہے لے لو ۔ہماری گاڑی میں بچے بھی ہیں پلیز بچوں کو مت مارو۔پھر بھی ونڈ شیلڈ سے گولیاں سیدھی آتی ہیں اور ایک باپ مرنے سے پہلے اپنی ایک بیٹی اریبہ کو مرتے دیکھتا ہے ، دوسری بیٹی کا ہاتھ گولیوں سے زخمی اور اپنی اہلیہ کی تڑپتی موت دیکھتا ہے۔پھر ہماری جانوں کے محافظ زخمی بچوں کو گاڑی سے نکالتے ہیں اور اندھا دھن فائرنگ کر دیتے ہیں تاکہ زندگی کا کوئی چانس باقی ہی نہ رہے۔پھر قسمت کا مارا بے چارا خلیل بھی مر جاتا ہے۔۔۔

جب سی ٹی ڈی اہلکاروں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنے افسران کو آگاہ کیا کہ بچے مارے جانے والوں کو اپنے والدین قرار دے رہے ہیں تو افسران نے کہا کہ واقعے کو کارنامہ بنا کر پیش کردو اور پھر شروع ہوتا ہے سی ٹی ڈی کا ڈرامہ اور پل پل بدلتے بیانات۔پہلے دعوی کیا کہ کچھ لوگ بچوں کو اغوا کر کے لے جا رہے تھے ہم نے کامیابی سے بازیاب کروایا۔ بازیاب کروانے کا عمدہ انداز سیدھی فائرنگ تھی جس سے بچے زخمی ہوئے اور ایک بچی جاں بحق ہوئی۔پھر زخمی بچوں کو بے یارومددگار پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا گیا اور جب تھوڑی دیر کے بعد اہلکاروں کو ہوش آیا تو انہوں نے بچوں کو اسپتال پہنچا دیا۔ایک مرتبہ پھر موقف بدلتے ہوئے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے بیان دیا کہ یہ اغوا کار نہیں بلکہ انتہائی مطلوب دہشتگرد تھے اور دہشت گردوں کی معاونت کرتے ہوئے اپنے ہی ساتھی دہشتگردوں کی گولیوں سے مارے گئے۔

مرنے والے دہشتگرد امریکی شہری وارن وائن اسٹائن اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کے بیٹے کے اغوا میں بھی شامل تھے۔جبکہ زیشان خلیل کا محلے دار تھا۔ جسکی کریانے کی دکان تھی اور کرائے پر گاڑی چلاتا تھا سی ٹی ڈی نے اسے بھی دہشتگروں کا ساتھی قرار دیا اور انہی کے ساتھی دہشت گردوں کی گولی سے مروا کر اپنے خون آلودہ ہاتھ پاک کر لیے۔ زیشان کا بھائی ڈولفن پولیس میں ہے اسے بھی داعش کا دہشتگرد قرار، دے کر تین آئی ایس آئی افسران کا قتل ان پر ڈال دیا۔

چلو فرض کر لیتے ہیں یہ داعش کے خطرناک دہشت گرد تھے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنے خطرناک دہشتگردوں کو سی ٹی ڈی اہلکار رنگ برنگے ٹرائوزر پہن کر گرفتار کرنے کیوں گئے؟؟ انہوں نے بلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بم، بارود ناکارہ بنانے کیلئے بلوایا؟؟؟ نہیں بلکل بھی نہیں بلوایا گیا کیونکہ لوگ نہتے تھے ان کے پاس کوئی اسلحہ ہوتا تو ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بلوایا جاتا۔

اتنا اسلحہ اور فائرنگ کے تبدلے میں کوئی بھی سی ٹی ڈی اہلکار نہ زخمی ہوا اور نہ ہی کوئی جاں بحق ہوا۔۔۔۔؟؟؟؟ سی ٹی ڈی پولیس بہت ہی تربیت یافتہ پولیس ہوتی ہے اور ان کو ہر طرح کے حالات میں بہتر سے بہترین طریقے سے نبٹنا سیکھایا جاتا ہے

مگر یہ کیسی پولیس ہے کہ گاڑی میں روتے بچوں کو حفاظت سے نکالے بغیر سیدھی فائرنگ شروع کردی۔ کیا بچوں کو حفاظت سے نکالنا ان کے فرائض میں شامل نہیں تھا؟؟؟؟

یاد رہے اسی سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں میں تیرہ سالہ گڑیا سے کھیلتی اریبہ کو بھی شامل کر دیا ۔ یہ دنیا کے پہلے ایسے دہشت گرد ہوں گے جو سیٹ بیلٹ باندھ کر مقابلہ کر رہے تھے جبکہ زیشان کا ایک ہاتھ مرتے وقت تک گاڑی کے سٹیئرنگ پر ہی تھا۔اور سی ٹی ڈی جن گاڑیوں پر مقابلہ کرنے آئی ان گاڑیوں پر نمبر پلیٹ ہی موجود نہ تھی۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کس نے قانون کے ساتھ انسانیت کی بھی دھجیاں اڑائیں۔

بچے نے سی ٹی ڈی کا بھانڈا پھوڑ دیا اور صحافی کو بتایا کہ پولیس کی ایک پک اپ آئی اور سیدھی فائرنگ کردی۔بہت منتوں کے بعد بھی نہ رکے اور گولیاں چلاتے رہے کیونکہ انہیں مارنے میں دلچسپی تھی۔

حکومت پنجاب نے سی ٹی ڈی کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے جے آئی ٹی تشکیل دے دی اور راجہ بشارت کے مطابق ایجنسیوں کی رپورٹ پر ہی کاروائی ہوئی۔ یہی ایجنسیاں جے آئی ٹی کا حصہ بن کر تفتیش کر رہی ہیں ۔اب ایک عقل مند انسان آسانی سے سجھ سکتا ہے کہ تفتیش اور انصاف کا معیار کیا ہوگا۔

23جون 2010 میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے سی آئی ڈی کو سی ٹی ڈی میں تبدیل کر دیا۔سی آئی ڈی نے اچھےبھی کام کیے ہوں گے مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اس نے بے گناہوں کو بغیر ثبوت کے غائب کیا، جعلی پولیس مقابلوں میں لوگوں کو مارا اور پھر انکو لاپتہ افراد میں شامل کر دیا ۔

جے آئی ٹی کا واقعے کی انکوائری کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک بچہ شکایت لے کر دوسرے بچے کی ماں کے پاس جائے اور ماں اپنے بچے کی کمر پر ہاتھ رکھ دوسرے ہاتھ سے تالی بجا کر ظاہر کرتی ہے کہ اس نے اپنے بچے کو مارا ہے۔ جے آئی ٹی بھی بلکل اسی ماں کی طرح انکوائری کرے گی اور واقعے کی انکوائری میں کافی وقت لگا کر کسی دوسرے بڑے ایشو کی تالی بجا دے گی ۔اور پھر اس مسئلے پر مٹی ڈال دی جائے گی ۔پھر کیسا انصاف اور کیسی سزا؟؟؟؟

سانحہ ماڈل ٹائون پر تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ یہ سیدھی گولیاں چلائی گئیں ہیں یہ دہشت پھیلانے کے لئے کیا گیا ہے اور ایسا تب تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک یہ آرڈر اوپر سے نہ آئیں ہوں۔ان چھوٹے پولیس والوں کو مت پکڑنا ۔پکڑنا ہے تو انکو پکڑو جنہوں نے یہ آرڈر دیے ہیں ۔

وزیر اعظم صاحب انصاف کا ترازو اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔آپ سزا دلوائیں ان اوپر والوں کو جنہوں نے آرڈر جاری کیے ہیں۔

آپ پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو پھر انصاف کا معیار بھی وہی رکھیں اور مجرموں کو سزائے موت دلوائیں۔

مدینے کی ریاست تو وہ تھی جب ترکی کے سلطان سلیمان القانونی کو بتایا گیا کہ درخت کی جڑوں چیونٹیاں بہت زیادہ ہو گئی ہیں تو ان کے پوچھنے پر ماہرین نے بتایا فلاں تیل چھڑکنے سے چونٹیاں ختم ہو جائیں گی مگر سلطان پرکام کرنے سے پہلے شرعی حکم لیتے تھے۔ جب شیخ الاسلام کو پورا ماجرہ بتا کر چونٹیوں کے قتل کا پوچھا تو شیخ الاسلام نے کہا کہ اگر انصاف کا پہلو دیکھا جائے تو چونٹیاں صرف اپنا حق لیتی ہیں ۔اور اس طرح اہم پہلو کی طرف اشارہ کر دیا گیا ۔جب سلطان سلیمان انتقال کر گئے تو انکی وصیت کے مطابق انکا صندوق ان کی قبر میں رکھا گیا جس میں شیخ الاسلام سے لیے گئے تمام فتوے تھے اور قبر میں رکھنے کا مقصد ثبوت تھا کہ سلطان سلیمان نے کوئی بھی فیصلہ اسلام کے مخالف نہیں کیا۔

لیکن یہاں تو بے گناہوں کو ہی دہشت گرد قرار دیے دیا گیا۔اس پورے سانحہ میں جن کو عبرت ناک سزا ملی وہ معصوم ننھے یتیم بچے ہیں جو پوری زندگی اس سزا کو جھیلیں گے اور انتقام کی آگ میں جلتے رہیں گے۔

چیخ بھی جہاں سنتا نہیں کوئی غور سے

میں بھی کن کو داستان غم سنانے بیٹھ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں