19

خواتین قیدیوں پر تشدد کا انکشاف، برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا سعودی عرب کو انتباہ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب کی جیلوں میں قید انسانی حقوق کی خواتین رضاکاروں کے ساتھ بدسلوکی کا انکشاف کیا ہے۔

ایمنسٹی کی جانب سے رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ خواتین قیدیوں پر جنسی حملے کیے گئے، بجلی کے جھٹکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس طرح کوڑے مارے گئے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے نہیں رہ پاتیں۔

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق مذکورہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ نے ریاض پر دباؤ ڈالا ہے کہ انہیں قیدیوں تک رسائی دی جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کم از کم 10 کارکنان ہیں جن پر تشدد کیا گیا اور اس دوران تفتیش کاروں کے دیکھتے ہوئے انہیں زبردستی ایک دوسرے کو بوسہ دینے پر مجبور بھی کیا گیا۔

ایمنسٹی کے مطابق تفتیش کاروں نے ایک خاتون قیدی سے جھوٹ بولا کہ تمہارے سارے گھر والے مرچکے ہیں جس پر وہ ایک ماہ تک شدید رنج میں مبتلا رہیں۔

ایک دوسری خاتون کو خفیہ جیل میں رکھنے کا انکشاف سامنے آیا جہاں انہیں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے اور اس زور سے کوڑے مارے جاتےکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پاتیں اس کے علاوہ ان پر واٹر بورڈ کا تشدد بھی کیا گیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ برس مئی سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی رضاکاروں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے جن میں وہ عزیزہ الیوسف، اور لجین الھذلول بھی شامل ہیں جو خواتین کے ڈرائیونگ کےحق اور مرد سرپرستی کے خاتمے کے لیے مہم چلاتی تھیں۔

تاہم ان گرفتار خواتین کو باضابطہ طور پر ملزم قرار دیا گیا اور نہ ہی ان پر اب تک نہ تو کوئی مقدمہ چلایا گیا اس کے علاوہ انہیں کوئی قانونی نمائندگی بھی حاصل نہیں۔

یہ ہولناک رپورٹ سامنے آنے کے بعد برطانوی قانون سازوں اور بین الاقوامی وکلا نے سعودی عرب کو خواتین قیدیوں تک رسائی دینے کے لیے اس ماہ کے اختتام تک کا انتباہ دیا ہے۔

علاوہ ازیں انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے قیدیوں کے لیے ریویو پینل بھی قائم کیا ہے جس کی جانب سے باضابطہ طور پر سعودی عرب کے سفیر برائے برطانیہ، شہزادہ محمد بن نواف کو درخواست بھیجی جاچکی ہے تا کہ ان 10 خواتین کے بیانات لیے جاسکیں جو ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر 29 جنوری تک انہیں مثبت ردعمل موصول نہیں ہوا تو ایمنسٹی سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے اکٹھا کردہ بدسلوکی کے تمام الزامات شائع کردیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں