98

‘کراچی کی تباہی کو روکنے کی کوشش کی تو کیا دھمکیاں ملیں؟‘

میں نے 37 برس ایڈورٹائزنگ کا کام کرتے ہوئے گزارے اور اس کام کو چھوڑے اب تقریباً 2 دہائیاں گزر چکی ہیں۔ مگر جب 2018ء میں یہ خبر سنی کہ سپریم کورٹ نے پورے ملک میں لگے بل بورڈز کو ہٹانے کا حکم دیا ہے تو مجھے اپنے بیتے دنوں کی یاد آگئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم کے تحت قبضہ خوری اور تجاوزات کے خلاف جاری مہم نے تو آپ سے اپنی کچھ یادیں شیئر کرنے پر مجبور ہی کردیا ہے۔

شہر کراچی 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں ہی خوبصورت تھا۔ (1951ء میں اس شہر کی آبادی صرف 10 لاکھ تھی!) اپنی کشادہ سڑکوں، ٹراموں کے جال، محمد علی ٹرام وے کمپنی کی بسوں، متعدد سنیما گھروں، تھیٹروں، چائے خانوں، بلئیرڈ کھیل کی جگہوں، بار کے ساتھ ساتھ صاف ستھرے ساحل اور مسلمانوں، عیسائیوں، پارسیوں، ہندوؤں، یہاں تک کہ یہودیوں پر مشتمل ایک پرامن اور لطف پسند کمیونٹی کے ساتھ یہ شہر خوشحالی کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔

لیکن پھر شہر میں آئے ڈیولپرز اور بلڈرز جنہوں نے کراچی کے شفاف اور خوبصورت افقی پھیلاؤ کو بھدے عمودی بے ہنگم پھیلاؤ میں بدل دیا۔ جس طرح دیگر شعبے بلدیاتی نافرمانی کرتے ہیں، اسی طرح آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ کا کاروبار بھی اس سے ذرا بھی پیچھے نہیں رہا۔ شہری اداروں (کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، کراچی میونسپل کوآپریشن (کے ایم سی)، اور کینٹونمنٹ بورڈز) کی بناوٹی بے خبری کے ساتھ بل بورڈز بزنس غیر معمولی حد تک کافی پرکشش کاروبار بن گیا۔

1970ء کی دہائی میں جب ہم کراچی کے ایک پرامن علاقے گلشن اقبال میں رہتے تھے ان دنوں میں نے ایک صاف ستھرے عمدہ علاقے (موجودہ سفاری پارک) کو بدصورتی میں بدلتے دیکھا، یہاں فطرت نے پہاڑیوں کے بیچ ایک جھیل تخلیق کی ہوئی تھی۔ یہاں شہری اداروں نے سفاری پارک بنانے کی ٹھان لی۔ انہوں نے میلوں پر پھیلی پکی سڑکیں بنائیں، پورے پہاڑی دامن کو سیمنٹ سے بھر دیا، سیکڑوں بجلی کے کھنبے کھڑے کردیے اور ان پر فینسی لائٹس نصب کردیں، جھیل کے چاروں اطراف آہنی گرل لگا دی گئی، اور اشتہارات لگانے کے لیے خاص جگہوں کو بیچا، یعنی ہر قسم کا سول کام کیا گیا جہاں جہاں پیسے خرچ کیے جاسکتے تھے بلکہ بنائے جاسکتے تھے!

سفاری پارک جانوروں کی آماجگاہ ہونے کے باوجود ایک شور شرابے سے بھرپور امیوزمنٹ پارک میں بدل گیا۔

یہ ہے وہ خوبصورتی جو سفاری پارک کو بخشی گئی
ایسا نہیں کہ ان دنوں متعلقہ شہری، ’شہری‘ جیسی غیر سرکاری تنظیمیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ اسی طرز کے ’تزین و آرائش‘ کے دیگر منصوبوں کو شہر کے مختلف حصوں میں شروع کیا جانے لگا۔ لگژری اپارٹمنٹس اور دکانوں کے لیے جگہ بنانے کی خاطر قدیم عمارتوں کا صفایا کیا جا رہا تھا۔ 1980ء کی دہائی میں اردشیر کاوسجی، حمید زمان، نجمہ بابر، ڈاکٹر علی اکبر نقوی، نصرت نصراللہ، یاسمین لاڑی، غازی صلاح الدین، ظہریٰ یوسف اور دیگر نے اس موضوع پر سخت لفظوں میں مضامین لکھے۔ اخبارات میں کئی اداریے بھی شائع ہوئے۔ لیکن بقول ایک شاعر کے، مرد ناداں پہ کلامِ نرم و نازک بے اثر!۔ یہ واضح ہوگیا تھا کہ شہری اداروں کو ورثے کی حفاظت اور شہر کی جمالیاتی (ایستھیٹک) خوبصورتی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

اس بات کا سہرا سابق وزیر اعلیٰ سندھ مظفر حسین شاہ کے سر جاتا ہے کہ جن کے دور میں حکومت سندھ کی جانب سے مارچ 1993 میں چیف منسٹر ایستھیٹک کمیٹی کی تشکیل دی گئی۔ کے ایم سی اور کے ڈی اے کی جانب سے ایڈورٹائزرز کو اہم چوک چوراہوں کی جگہیں الاٹ کرنے کے بعد وہاں سیمنٹ سے بنے بڑی بڑی اور بدھی یادگاروں کی تعمیر کے لیے وہی پرانی منطق محسوس کی گئی۔ یہ ایڈورٹائزرز کے لیے مستقل اور مفت تشہیری مقامات بن گئے۔ شہر کی دیواروں پر تحریر و نقوش اور جا بجا بل بورڈز کھڑے نظر آنے لگے۔ بدنما کپڑوں کے بینرز نے شہری ماحول کا بیڑا غرق ہی کردیا۔ اس بربادی کو روکنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک ایسی ایستھیٹک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں معنی خیز اور پڑھے لکھے شہری شامل ہوں۔

پھر یہ کمیٹی وجود میں بھی آگئی۔ اس پر یہ شرائط عائد تھیں کہ، ’کے ڈی اے، کے ایم سی اور کینٹونمنٹ بورڈز کی حدود میں میٹروپولیٹن کراچی کے جو علاقے آتے ہیں وہاں شہری/تعمیر شدہ ماحول کی بہتری اور تزین و آرائش کے لیے تمام موجودہ/ جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر نظر ثانی کی جائے۔ کمیٹی کے نتائج اور تجاویز پر متعلقہ اداروں کے ذریعے عمل درآمد ہوگا جبکہ اس پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں اس کا جائزہ لینے اور مانٹرینگ کا کام خود کمیٹی وقتاً فوقتاً کرے گی۔‘

21 جنوری 1993ء کو ایستھیٹک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں تہمینہ حبیب اللہ، نور جہاں بلگرامی، یاسمین لاڑی، قدسیہ اکبر، مروین حسین، محمود علی، حمید ہارون، غازی صلاح الدین، نسیم احمد اور میں خود بھی شامل تھا۔ کمیٹی نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر، کے ایم سی ایڈمنسٹریٹر، ڈی جی کے ڈی اے اور ملٹری لینڈ اینڈ کینٹونمنٹ کے ڈائریکٹر کو بھی بطور ممبران نامزد کیا۔

محمود علی کو بطور چیئرمین اور مجھے بطور سیکریٹری نامزد کیا گیا۔ ہم نے اسپانسرز اور شہری اداروں کے لیے جمالیات (ایستھیٹکس) کے حوالے سے چند معیارات مرتب کیے جن کی انہیں پاسداری کرنی تھی اور تزین و آرائش کے نام پر شہر کی بے قدری کرنے سے روکنا تھا۔

اہم کاموں میں سے ایک کام شہر میں آزادانہ طور پر آویزاں اشتہارات کا خاتمہ کرنا تھا۔ بل بورڈز کا بزنس بددیانت منافع بخش کاروباروں میں سے ایک تھا۔ آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ ایجنسیز شہری اداروں کے ساتھ پوری طرح سے ملے ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ بات سامنے رکھی کہ بل بورڈز سے شہری اداروں کو ریوینیو حاصل ہوتا ہے اور ان سے شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ان دنوں اس وقت کے کمشنر کراچی، سلیم خان کی مدد سے شہر کی اہم شاہراہوں سے کئی بل بورڈز کو ہٹایا گیا۔ چونکہ میں سیکریٹری تھا اس لیے مجھ سے رابطے کیے گئے اور مجھے مافیا کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے کہا گیا۔ جب میں نے انکار کردیا تو مجھے وارننگ دی گئی کہ، ’تم ایک چھوٹی ایڈورٹائزنگ ایجنسی ہی چلاتے رہو گے، مگر یاد رکھنا ہم دوبارہ واپس آئیں گے اور تمہاری ایستھیٹک کمیٹی ہوا میں اڑ جائے گی، صرف نئے وزیر اعلیٰ کو چارج لینے دو!‘

وارننگ کیا خوب سچ ثابت ہوئی۔ پہلے تو چھوٹے سائز کے بل بورڈز لکڑی کے ڈنڈوں پر لگائے جاتے تھے اور محض 12 سے 20 ہزار کے عوض کلائنٹس کو بیچے جاتے مگر سال کے آخر تک شہر کی اہم شاہراہوں پر جا بجا بھاری لوہے کے ستونوں پر لگے روشنیوں سے جگمگاتے بڑے بڑے بل بورڈز نظر آنے لگے اور انہیں اس طرح ایک ساتھ نصب کیا گیا تھا کہ سڑک پر موجود گھر، درخت اور عمارتیں سب کچھ ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

ان عفریت نما بل بورڈز کو ٹرائی وژن سائنز (Trivision Signs) جیسا فینسی نام دیا گیا اور ہر بل بورڈ کو لاکھوں روپے میں بیچا گیا۔ بہت ہی کم وقت میں یہ کراچی کے زبردست منافع بخش کاروباروں میں سے ایک بن گیا۔ زیادہ تر جگہیں کینٹونمنٹ بورڈز اور سول ایویئیشن اتھارٹی کے زیر انتظام تھیں۔ چند بل بورڈز کو تو آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی زمین پر نصب کیا گیا تھا۔

پھر آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ ایسو سی ایشن کی جانب سے پیش گوئی کے مطابق مظفر حسین شاہ کی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا اور نئے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے ابتدائی اقدامات میں سے ایک ’چیف منسٹر ایستھیٹک کمیٹی‘ کا خاتمہ تھا جسے بنے ہوئے ابھی سال ہی ہوا تھا۔

بات صرف بل بورڈز تک ہی محدود نہیں تھی۔ ہم نے دیگر معاملات کو بھی اٹھایا تھا۔ تقریباً تمام بجلی کے کھنبوں پر 2 یا بعض دفعہ 4 جگمگاتے ایڈورٹائزنگ باکس لگے ہوتے تھے۔ ہوا کے دباؤ اور مسلسل وائبریشن کی وجہ سے سیمنٹ سے بنی کھنبوں کی بنیادوں میں دراڑیں پڑجاتیں اور وہ ایک طرف جھک سے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ بجلی کے کھنبوں، درختوں، عمارتوں اور چوراہوں سے بندھے کپڑے کے بینرز ہوا میں لہرا رہے ہوتے تھے۔ وزیر اعلیٰ کی ایستھیٹک کمیٹی یہ سب ختم کرنے کے درپے تھی۔

یہ ایک بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ ’سی ایم اے سی‘ نجی شعبے کو شہر کی ذمہ داری لینے، اسپانسر منصوبوں اور شہر کی تزین و آرائش مہم کی ترغیب دینے میں کامیاب رہی۔ ان نجی شعبوں اور ان کے کنسلٹنٹ کی جانب سے پیش کردہ متعدد ڈیزائنز اور ماڈلز کو سی ایم اے سی کے اجلاسوں میں زیر بحث لایا گیا اور ان کی منظوری بھی دی گئی۔

جبکہ فُٹ پاتھ سے سمت کی نشاندہی کرتے بورڈز کو ہٹانے، درخت پر رنگ کرنے پر پابندی، شجر کاری اور سبزہ زاری، اور تعمیراتی ورثے یعنی قدیم عمارتوں کو لائٹوں سے روشن کرنے جیسے اقدامات بھی اٹھائے گئے تھے۔

بلاشبہ جن افسران کو ’سی ایم اے سی‘ کے فیصلوں پر عمل کروانا تھا ان سے رضامندانہ مدد اور تعاون حاصل کرنا بہت ہی مشکل کام تھا۔

چلیے ماضی سے سیدھا حال کی طرف آتے ہیں۔ اب جب 2018ء میں بل بورڈز کو ہٹایا جا رہا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کراچی ایک بار پھر سانس لینے لگا ہے۔ آج آپ درختوں اور عمارتوں کے چہرے اور چند بچی کچھی برطانوی دور کی عمارتوں پر موجود ڈیزائن نقش و نگار کی خوبصورتی دیکھ سکتے ہیں۔

جمالیاتی قدر و قیمت والی چند دیگر نشانیاں بھی یہاں وہاں نظر آجاتی ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ کا ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے اور وہ ہے ’دیواروں‘ پر بڑے بڑے اشتہارات۔

مسمار شدہ غیر قانونی دکانوں اور دیگر تجاوزات کو دیکھنے کے لیے جب شہر کا چکر لگایا تو ان مناظر کو دیکھ کر اداسی ہوئی، کہیں سڑکیں ملبے کی وجہ سے بند پڑی تھیں، کہیں ٹوٹی کھڑکیاں تو کہیں دروازے تھے، غیر محفوظ انداز میں بجلی اور ٹیلی فون کی تاریں لٹک رہی تھیں، لیک ہوتے پائپ تھے، تباہ شدہ عمارتوں کے بیرونی حصے نظر آئے، جبکہ وہاں کے مکینوں کے چہروں پر لاچاری صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔

یہ سب دیکھ کر مجھے 1993ء کے وہ دن یاد آگئے جب شہری اداروں کی جانب سے کیے تزین و آرائشی کے کام کی نگرانی کے لیے شہریوں پر مشتمل ایستھیٹک کمیٹی کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔

چوتھائی صدی کے بعد ایسی کمیٹی کی ضرورت آج بھی برقرار ہے۔

نہ کسی پارک میں نہ ہی شہر میں

کوئی یادگار نہیں ملے گی کمیٹی کی یاد میں

— وکٹوریہ پسٹرنیک

لکھاری ایک کچے فوٹوگرافر اور گائگ ہیں، انہوں نے استاد ولایت علی خان سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں