23

،،پاکستان کی سیاست اور نوجوان ،،

“پاکستان کی سیاست اور نوجوان “

( تحریر : انجینئر رانا بلال )

ہر سیاسی جماعت ہر طبقے کی نمائندگی کی دعویدار ہے ۔ طلبہ اور نوجوانوں کی نمائندگی کرنے سے متعلق بیانات کی کمی نہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے ، نواز شریف کے جاں نثار ، جماعت اسلامی کے جانباز، ایم کیوایم کا ہر اول دستہ اور عمران خان کے سپاہی یہ سب نوجوانوں کو محل کرنے اور اپنی سیاست کو قومی دھارے سے جوڑنے کے طریقے ہیں

حقیقت میں پاکستان کا نوجوان کسی سیاسی جماعت میں مطمئن نہیں ہے ۔ نوجوانی کے جوش اور تبدیلی کے ولولے کے تحت یا شخصیت سے متاثر ہو کر وہ سر توڑ کام تو کرتا ہے۔

مگر آخر میں اس کے ہاتھ ثمر سے خالی ہی رہتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ تمام سیاسی جماعتوں پر طاقت اور مفاد پرست گروہوں کا قبضہ ہے ۔

جو ووٹ اور نوٹ کے ذریعے فیصلہ سازی پر قبضہ کرلیتے ہیں اور پھر نوجوان خون کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔

ان کے لئے نوجوان وہ مزدور ہیں جو اپنی کمر پر پتھر لاد کر ان کے لئے طاقت کے اہرام بنانے کے لئے کارآمد ہے ۔

نوجوانوں کو خواب دکھا کر ان کو سبز باغ کی نوید دے کر یہ سیاسی دھڑے باز اپنا کام نکالتے ہیں اور پھر ان مزدوروں کو آدھے رستے چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں ۔

اب پھر الیکشن کا موسم آ پہنچا ہے ۔ ہر طرف نوجوانوں کی مانگ بڑھ گئی ہے ۔ تحریک انصاف ہو یا نواز لیگ پیپلز پارٹی ہو یا اسلامی جماعت ،جمیعت علماء اسلام کے مدارس کے طالب علم ہوں یا عوامی نیشنل پارٹی کے جوان ساز قوم پرست ہر کوئی نوجوانوں کو میدان میں دھکیل رہا ہے ۔

مگر قیادت ابھی ابھی بوڑھوں طوطوں اور عمر رسید گھوڑوں کے ہاتھوں میں ہے۔ لگتا ہے کہ اس مرتبہ بھی سوار پرانے ہی ہوں گے اور کاٹھی نوجوانوں پر کسی جائے گی ۔

تحریر : رانا بلال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں