86

ساہیوال کے علاقے میں سی ٹی ڈی کی کارروائی سے جاں بحق ہونے والے خاندان کی داستان

ساہیوال ( وقاص انصاری ) ساہیوال کے علاقے میں سی ٹی ڈی کی کارروائی سے جاں بحق ہونے والے خاندان کی داستان :

ویک اینڈ ہے ۔ گاؤں میں چچا کی شادی ہے۔ آپ کے سب گھر والے خوش ہیں۔ آپ کی اہلیہ نے آپ کی تین اور پانچ سال کی بچیوں کو ایسی محبت سے تیار کیا ہے کہ ان کے معصوم چہروں پر نظر نہیں ٹکتی۔

پانچویں جماعت میں پڑھنے والا آپ کا بیٹا ہیرو لگ رہا ہے۔ تیرہ برس کی بیٹی خود ہی سج سنور گئی ہے۔ وہ اب بڑی ہو رہی ہے خود تیار ہونے کی شوقین ہے۔

اس شادی کی تیاری وہ تین مہینے سے کر رہی تھی۔ آپ نے گاڑی نکالی اور لاہور سے نکل کھڑے ہوئے۔

راستے میں اچانک پولیس کی ایک پک اپ قریب پہنچی اور آپ کی گاڑی پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔
یہ بھی نہ دیکھا کہ گاڑی میں ننھے بچوں کے خوفزدہ چہرے ان کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے گھبرا کر گاڑی روکی اور منتیں کرتے رہے کہ ہماری تلاشی لے لو، ہم سے پیسے لے لو، ہمیں مت مارو۔

فائرنگ ہوتی ہے۔ سامنے ونڈ شیلڈ سے سیدھی گولیاں آتی ہیں۔ مرنے سے پہلے آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کی برسوں کی رفیق آپ کی اہلیہ مر چکی ہے۔

آپ کے چھوٹے سے بیٹے کے گولی لگ چکی ہے اور بیٹی کا ہاتھ بھی زخمی ہے۔ آپ دم توڑ دیتے ہیں
اور آپ کے یہ ننھے بچے ساری عمر کے لئے احساس محرومی لئے دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
وہ کبھی سکون کی نیند نہیں سو پائیں گے۔ ان کی کھلی اور بند آنکھوں کے سامنے یہ قیامت کی گھڑی زندہ رہے گی۔
ساہیوال میں یہی ہوا ہے۔ یہ آپ کے یا میرے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہماری قسمت اچھِی اور خلیل کی قسمت بری تھی کہ یہ تباہی اس کے خاندان پر ٹوٹی۔
لیکن کیا ہم ہمیشہ خوش قسمت رہیں گے یا اگلی باری ہماری اور ہمارے بچوں کی ہے؟

حکومت نے ساہیوال کے علاقے قادرآباد کے قریب پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی کارروائی سے جاں بحق ہونے والے 4 افراد کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں