88

”سِرن ویلی کے سیاحتی مقامات“

مانسہرہ ( رفاقت گجر بیورو چیف ) مَری، کشمیر، سوات، کالام اور ناراں، کاغان کا قدرتی حُسن اور دلکش نظارے اپنی جگہ بے مِثال ہیں، مَگر سیاحوں کی نظر سے قدرے اوجھَل ”سرن ویلی“ کرہِ ارض پر کِسی جنت ارضی سے کم نہیں ہے۔ ”سِرن ویلی“ کی انفرادیت یہ ہیکہ یہ وادی صاف شفاف، شفایاب پانی کی چھَم چھَم کرتی ندی کو اپنی حدود کے آغاز سے اختتامی حدود تک اپنے دامن میں سمیٹے ہوٸے ہے۔ وہ سیاح جو ٹھنڈے پانی کے جھرنوں، جھیلوں اور چشموں کی خوبصورتی اور ٹھنڈک سے اپنے سیر و سیاحت کے شوق کی تسکین کرنا چاہتے ہیں، اُن کے لیٸے ”سِرن ویلی“ سے زیادہ موزوں اور خطرات سے محفوظ مقام شاید ہی کوٸی ہو۔ اِسکے علاوہ سیاحوں کی دلچسپی کے لیے ”سرن ویلی“ بے شمار خوبصورت و دلکش مقامات، نظاروں، اور قدرتی کرشمات کو اپنے اندر سماٸے ہوٸے ہے۔

یہ وادی(سِرن ویلی) مانسہرہ شہر سے شمال کی جانب واقع ہے۔ شاہراہ قراقرم پر آدھے یا پونے گھنٹے کی مسافت پر موجود ”خانپور“ سے ”سرن ویلی“ کا راستہ مشرق کی جانب الگ ہو جاتا ہے۔ خانپور سے مشرق کی جانب مُڑتے ہی ”سرن ویلی“ کا آغاز ہوتا ہے۔ تقریباً پانچ منٹ کی مسافت کے بعد ”سرن ویلی“ کی مین شاہراہ اور صاف شفاف پانی کی بَل کھاتی، وادی کے حسن کو چار چاند لگاتی نَدی جِسے مقامی زبان میں ”سِرَن“ کہا جاتا ہے، ایک ساتھ چلتے ہیں، اور پھر جہاں تک شاہراہ وہاں تک نَدی ایک دوسرے کے ساتھ ملعقہ ہی ہیں۔ ”سِرن ویلی“ کی حدود میں داخل ہوتے ہی ”کلیگاہ“ کے مقام پر ندی کنارے بنی شاہزیب جھیل (جو کہ فلحال بند ہے)، سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ یہاں باہر سے آنے والے سیاحوں کو جھیل کے علاوہ بھی ندی کنارے لطف اندوز ہونے کے لیے کشادہ جگہ اور پرفضا ماحول میسر آتا ہے، اس مقام پر ایک چھوٹا سا بازار بھی ہے، جہاں سموسے، پکوڑے، دیسی مچھلی، کولڈ ڈرنکس وغیرہ دستیاب ہیں۔

کُلیگاہ سے آگے تقریباً تین سے پانچ منٹ کی مسافت پر ”جانو منڈی“ کا مقام آتا ہے، جہاں سیاح ندی میں نہانے یا ندی کنارے فوٹو گرافی کرنے کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اس مقام پر ندی کنارے درختوں کا جھرمٹ اور ندی میں نہانے کی بہترین جگہیں موجود ہیں، اور یہ جگہ آبادی سے بھی قدرے اَوجھَل ہے، (یہاں ندی میں صرف پاجامہ یا کچھا پہن کر نہایا جا سکتا ہے)۔ جانو منڈی کے بعد اگلا مقام سُم ہے، پھر ڈاڈر آتا ہے، ڈاڈر میں داخل ہوتے ہی باٸیں جانب ندی کنارے جھیل ہے، اور کھانے پینے کی اشیإ بھی سستے داموں یہاں دستیاب ہیں۔ فارسٹ ریسٹ ہاٶس، مینٹل ہسپعتال کا ایریا چیڑوں کے گھنے جنگل میں گِھرا ہوا ہے۔ یہاں سے اگلا مقام بھوگڑ منگ اور پھر تقریباً پندرہ سے بیس منٹ کی مسافت پر جبوڑی آتا ہے۔ جبوڑی ندی کے بالکل قریب قدرے بڑا بازار ہے جہاں ضروریات زندگی اور خورد و نوش کی تقریباً ہر شے دستیاب ہے، جَبوڑی کے مقام پر ”ہوٹل لب جُو“ سیاحوں کو ہر قسم کی سہولیات، رہاٸش، پرکشش ماحول اور بہترین سروسز فراہم کرتا ہے۔ یہاں سے جوں جوں آگے بڑھتے جاٸیں، قدرتی کرشمات اور ٹھنڈی ہواٶں کا مزا دوبالا ہوتا جاتا ہے۔ جبوڑی سے تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت پر دومیل کا مقام آتا ہے، جہاں دو دروں ”جبڑ اور پنجول“ کے دامن سے بہتی دو ندیاں آپس میں ملتی ہیں، بالکل روڈ ساٸیڈ پر ایک مسجد موجود ہے، اور مسجد کے ساتھ ہی دوسری جانب آر پار سر سبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں گھِری صاف شفاف ندی، جو کہ اس مقام کو قدرتی حسن میں عجیب اور دلفریب انفرادیت بخشتی ہے۔ یہاں سے چند ہی قدم کے فاصلے پر ”فارسٹ ریسٹ ہاٶس“ ہے اور تقریباً دس منٹ کے فاصلے پر نوازآباد کے مقام پر پولیس چوکی، ہاٸی سکول اور چھوٹا سا بازار بھی ہے۔

دومیل کے بعد نوازآباد کے مقام پر ”سرن ویلی“ مزید دو دَروں میں تقسیم ہو جاتی ہے، یہاں سے داٸیں ہاتھ مُڑنے والی شاہراہ سید آباد، پنجول، منڈہ گچھہ، بانسو، اور جھچھہ تک جاتی ہے۔ جبکہ باٸیں ہاتھ پر مڑنے والی شاہراہ کیری، جبڑ، اور مُنڈی تک جاتی ہے۔ ”درہ پنجول“ میں سیر و سیاحت کے لیے آر پار سرسبز و شاداب پہاڑ اور سامنے نظر آنے والا موسیٰ کا مصلا وادی کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ جگہ جگہ میٹھے پانی کے چشمے، جھرنے اور برف پوش پہاڑوں سے ٹکرا کر آنے والی ہوا سفر کی تھکاوٹ محسوس نہیں ہونے دیتی۔ منڈہ گُچھہ کے مقام پر ندی کے بالکل ساتھ قدرے وسیع بازار موجود ہے، جہاں ہر قسم کے کھانے،

رہاٸش کے لیے ہوٹل اور اشیإ خوردو و نوش دستیاب ہیں۔ ”درہ پنجول“ میں منڈہ گچھہ وہ آخری مقام ہے، جہاں سے آگے آبادی تو ہے، مگر کوٸی بازار یا دکان نہیں ہے۔ قدرتی حسن کے کرشمات اور دل موہ لینے والے نظارے وہاں سے جتنا آگے جاٸیں گے اتنے ہی زیادہ اور دلفریب ہوں گے، جچھہ تک کچی پکی سڑک جاتی ہے، اور جچھہ سے آگے پھر پیدل مسافت ہے۔ کوہ موسیٰ کا مصلیٰ کے دامن میں وسیع و عریض چراہ گاٸیں، اور گھنے جنگلات قدرتی حسن اور پرسکون ماحول کی عمدہ مثال ہیں۔ ھِڈور سے شہید پانی وغیرہ تک دو تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے ذریعے رساٸی ممکن ہے، جبکہ یہاں سے موسیٰ مصلیٰ ٹاپ تک کے لیے ہمت اور جواں مردی سے تقریباً چار گھنٹے کی پیدل مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔

کوہ موسیٰ مصلیٰ کے مشرق میں شوگراں، مغرب میں وادی سرن یا وادی پنجول شمال میں کوہستان کی چراہ گاٸیں اور جنوب میں روڑی، شَدل، اور کنڈہ بنگلا ہے۔ البتہ کوہ موسیٰ مصلیٰ پہنچنے کے بعد ایک یا دو دن کا قیام ضروری ہو جاتا ہے، لہذہ جاتے ہوٸے کھانے پینے کا سامان، بستر، حفاظت کے لیے ہتھیار وغیرہ لے جانا انتہاٸی ضروری ہے۔ ہوسکے تو اس ٹور میں وادی پنجول کے مقامی افراد یا کسی فرد کو ساتھ ضرور لیجانا چاہیٸے، کہ راستوں کی الجھن اور ممکنہ خدشات و خطرات سے بچا جا سکے۔

درہ جبڑ کی طرف مُنڈی مشہوری سیاحتی مقام ہے، اس سے پہلے کی تمام جگہیں ہی خوبصورت ہیں مگر آبادی کی زد میں ہیں۔ منڈی پہنچ کر سڑک احتتام پذیر ہو جاتی ہے، پھر یہاں سے آگے کھنڈا گلی تک تقریباً دو ڈھاٸی گھنٹے کی پیدل مسافت ہے، کھنڈا گلی سے آگے کوہستان کی حدود شروع ہو جاتی ہے، کوہستان کی ان وسیع چراہ گاٶں اور قدرتی حسن کی سحر انگیزی کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کھنڈا گلی سے جنوب مشرق میں سوہنی دی سَر، پلہیجہ، رتہ پانی اور بہشتی کے مناظر کی کشش میں کھو کر انسان اپنی دنیا ہی بھول جاتا ہے۔ یہاں ارد گرد گھنے جنگلات، میٹھے پانی کے چشمے اور ٹھنڈی ہواٸیں خوشگوار موسم، بھینی بھینی خوشبوٸیں، تازہ دم ہواٸیں اور پرندوں کی چہچاہت کی کہیں کوٸی مثال نہیں ملتی۔ البتہ اگر مُنڈی سے آگے پیدل مسافت کا ارادہ ہو تو کھانے پینے کا سامان، بستر، ہتھیار اور درہ جبڑ کے ایک دو مقامی افاد کو ساتھ لے کر جانا ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے یا خدشے اور راستوں کی الجھن سے چھٹکارا ممکن ہو سکے۔۔۔

یہ خبر ( رفاقت گجر ، بیورو چیف ) نے ارسال کی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں