97

وادی سرن ( درہ بھوگڑمنگ ) کی سیر

مانسہرہ ( رفاقت گجر ، بیوروچیف ) مانسہرہ شہر سے شاہراہ قراقرم پر شمال کی طرف سفر کرتے ہوے نصف گھنٹے کی مسافت کے بعد خانپور کے مقام سے وادی کا روڈ الگ ہو جاتا ہے۔

پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل وادی سرن اور چار یونین کونسلوں پر مشتمل درہ بھوگڑمنگ کو قدرت نے حسن کی رعناٸیوں سے فیاضی کیساتھ نوازا ہے لیکن سیاسی قیادت کی عدم توجہی کے باعث وادی کا حسن اجاگر نہیں ہو سکا۔وادی کے قابل دید اور سحر انگیز مقامات تک سڑک کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے دیو مالاٸی مناظر ابھی تک سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔سم۔ڈاڈر۔بھوگڑمنگ۔جبوڑی۔ سچہ سے بانڈہ ۔کودر۔ ستھان گلی سے ہوتے ہوہے یہ کوش ویلی کو بھی مل جاتی ہے

اور دوسری طرف دومیل ۔منڈہ گچھہ۔کیری۔جبڑ۔دیولی۔نرالبن اور منڈھی کا حسن اپنی جگہ لیکن بالاٸی علاقوں جہاں روڈ کی سہولت میسر نہیں کا حسن اپنی مثال آپ ہے۔منڈہ گچھہ سے مشرق کی جانب کوہ مصلٰی کے دامن ھڈور تک ایک گھنٹے کی پیدل مسافت درکار ھوتی ہے۔اسی مقام سے شہید پانی فارسٹ ریسٹ ہاوس تک رساٸی حاصل کرنے کیلیے تین گھنٹے جبکہ مصلٰی کے بیس کیمپ کھوڑی کے وسیع وعریض میدانوں تک پہنچنے کیلیے چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔کوہ مصلٰی کو سر کرنے کیلیے ہمت وحوصلے کیساتھ پانچ گھنٹے مزید درکار ہوتے ہیں۔حفاظتی انتظامات کے بغیر مہم جوٸی کرنے والے سیاحوں کو شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔

کوہ مصلٰی کے مشرق میں شوگراں مغرب میں منڈہ گچھہ شمال میں کوہستان کی چراہ گاہیں جبکہ جنوب میں روڑی،شدل گلی اور کنڈ بنگلہ فاریسٹ ریسٹ ہاوس واقع ہیں۔

نواز آباد سے شمال کی طرف سفر کرتے ہوے منڈھی کے مقام پر سڑک اختتام پزیر ہو جاتی ہے جہاں سے کھنڈا گلی تک تین گھنٹے درکار ہوتے ھیں۔اس مقام سے کوہستان کی حدود کا آغاز ہوتا ہے اور وسیع وعریض میدانوں پر مشتمل چراگاہوں کی سحر انگیزی کو الفاظ کے روپ میں بیان کرنا محال ہے ۔محسوسات کی فضاوں میں غوطہ زن ہونے کے بعد جی میں آتا ھے کہ من کی جھیل سے کنول کا ایک پھول توڑ کر عروس شب کی زلفوں میں ٹانک دیا جاے اور وقت کی رفتار تھم کے رہ جاے لیکن…………وقت لحاظ کب کرتا ہے سرکتا ہی جاتا ہے۔
کھنڈا گلی سے جنوب مغرب کی طرف سوہنڑی دی سر۔پلہجہ۔رتہ پانی اور بہشتی کے دلکش نظارے اپنے سحر و سرور کیساتھ آنیوالوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

یہ خبر ( رفاقت گجر ، بیورو چیف ) نے ارسال کی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں