26

گورنر اسٹیٹ بنک دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کل کریں گے

گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کل کریں گے۔ اس وقت بنیادی شرح سود 12.25 فیصد ہے اور مئی 2018 سے اب تک شرح سود میں 5.75 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ دوسری جانب جون 2019 میں مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد رہی۔

روپے کی گرتی قدر اور مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث ماہرین توقع کررہے ہیں کہ اسٹیٹ بنک موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔زیادہ تر کے مطابق شرح سود میں آدھا سے 1 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 20مئی کو پاکستان کے مرکزی بنک نے اپنی مانیٹری پالیسی میں آئندہ دو ماہ کیلیے شرح سود میں 1.5 فیصد اضافہ کردیا تھا۔ قبل ازیں شرح سود 10.75 فیصد تھی۔

دو ماہ قبل پالیسی ریٹ میں 75 بیسزز پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا تاہم 20 مئی کو پالیسی ریٹ میں 150 بیسززپوائنٹس کا اضاف کیا گیا۔

دو ماہ قبل پالیسی ریٹ 10 اعشاریہ 75 فیصد تھا۔ اس وقت شرح سود ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود تھا

یاد رہے جنوری 2019 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسز پوائنٹ کا اضافہ کرکے شرح سود 10.25 فیصد مقرر کردی گئی تھی۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہنا تھا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ اب بھی بلند ہے لیکن پچھلے 12 ماہ میں اس خسارے میں کمی ہو رہی ہے۔

گزشتہ مانیٹری پالیسی کے موقع پر سابق گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پہلے چھ ماہ میں اسٹیٹ بینک سے حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوا اور مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کی نسبت بڑھا، جولائی تا نومبر بڑے صنعتی یونٹس میں 0.9 فی صد اضافہ ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ معیشت کے چیلنجز بدستور موجود ہیں، مالی خسارہ بڑھ گیا ہے اور افراط زر میں اضافہ ہوا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہورہا ہے مگر ابھی بھی زیادہ ہے، رواں مالی سال پہلی ششماہی میں افراط زر 6 فیصد رہی، گذشتہ مالی اسی عرصے میں افراط زر کی شرح 3.8 فیصد تھی۔

سابق اسٹیٹ بینک سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک کو کرنٹ اکاونٹ خسارے کا سامنا ہے اور معیشت کو چینلجز درپیش ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں