56

فتح پور : ٹراماسنٹر ہسپتال ٹرانسفرسنٹر بن گیا

فتح پور ( شفیق احمد . شوبز رپورٹر) فتح پور ٹراماسنٹر ہسپتال ٹرانسفرسنٹر بن گیا اکثرڈاکٹرزکے کمروں کوتالے مریض زلیل و خوار تفصیل کے مطابق ٹراما سنٹر ہسپتال فتح پور صرف ٹرانسفر سنٹر ہی بن کررہ گیا

عام سے عام مریض کو بھی ٹرکاؤ پالیسی کے تحت دوائی دی جاتی ہے یا پھرلیہ یا ملتان ریفرکاحکم دے دیاجاتاہے صبح 8بجے سے ہی مریضوں کی لائینیں لگ جاتی ہیں تو اسی وقت سے ہسپتال میں صفائی شروع کروائی جاتی ہے عملہ 8 بجے سے 9بجے تک صفائی کرتا ہے 9 بجے ایک دوڈاکٹر کام شروع کرتےہیں اورمشین چلادیتے ہیں

10 بجے صاحبان کی میٹنگ کاوقفہ 11 بجے وارڈ چیکنگ کا بہانہ 12 بجے چائے کا وقفہ اور 1 بجے جو چند مریض خود بخودواپس نا چلے جائیں ان کو لیبارٹری کی چٹ تھماکر چھٹی کر لی جاتی ہے یہی ہے پراگرس ٹر اما سنٹر ہسپتال کی اکثرڈاکٹرز کے کمروں کو تالے دفتری اوقات میں لگے رہتے ہیں اور کئی کمروں کے تالے کھولے ہوئے


لیکن دروازے بند ہوتے ہیں ڈاکٹرناموجود اور کمرے اندر سے کھالی ہوتے ہیں ان میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوتالیکن باہر ڈاکٹر صاحب کے نام کے تختی اویزاں ہوتی ہے اور جو ڈاکٹر ز مریضوں کو چیک کرتے ہیں وہ اس توجہ اور نیت سے نہیں جس طرح وہ اپنے پرائیویٹ کلینک پر چک کرتے ہیں اور فیس بک پر بھی مصروف رہنا ڈاکٹر ز کی مجبوری ہے تاکہ مریص تڑپتے اور انتظارکرتے خود بخود واپس چلے جائیں شہریوں محمد رضوان والد محمد رفیق چک نمبر 106 ایم ایل نے ڈی سی ا و لیہ اور وزیر صحت وزیراعلی سے نوٹس لینےکا مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں