24

بحری جہاز پکڑنے کی کوشش ہوئی؟ برطانیہ کا اصرار، ایران کا انکار

برطانیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی تین کشتیوں نے اس کے تیل بردار جہاز کو آبنائے ہرمز میں روکنے کی کوشش کی لیکن برطانوی بحریہ کے جنگی جہاز کی للکار پر وہ واپس چلی گئیں جب کہ تہران نے ایسے کسی بھی واقعہ سے صاف انکار کیا ہے۔

برطانوی حکوم ت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی تین کشتیوں نے جس تیل بردار جہاز کو روکنے کی کوشش کی تھی وہ برطانوی کمپنی ’بی پی‘ کا تھا۔

جواب آں غزل: ایران نے برطانوی آئل ٹینکر پکڑنے کی دھمکی دے دی

برطانیہ کی جانب سے گزشتہ ہفتہ ایران کے ایک تیل بردار بحری جہاز کو جبرالٹر پر تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ اس کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ پابندی کے باوجود خام تیل لے کے شام جانے کی کوشش کررہا تھا۔

ایران کی جانب سے اپنے تیل بردار بحری جہاز کو تحویل میں لیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا اور واضح کیا گیا تھا اس کے بعد وہ بھی برطانوی جہاز کو پکڑ سکتا ہے۔

برطانوی حکومت کے دعوے کے برخلاف ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے عائد کردہ الزام کو بے سرو پا قرار دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے رواں سال مئی میں ایرانی تیل کی برآمدات پر دوباہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے خطے کی صورتحال کشیدہ ہے۔

امریکہ کے حلیفوں کا فیصلہ چند ہفتوں میں ہو جائےگا، جنرل ڈنفورڈ

آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت میں انتہائی آبی گزرگارہ کا درجہ حاصل ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عرب ممالک کو ایشیا، مغرب اور شمالی امریکہ سمیت دیگر سے ملاتی ہے۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق خام تیل کی کل تجارت کا 20 فیصد آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے۔

امریکہ پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ وہ اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کثیرالملکی میری ٹائم سیکیورٹی فورس تشکیل دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں