80

آبادی کا عالمی دن

جولائی کی 11 تاریخ آبادی کے عالمی دن سے منسوب ہے۔ یہ دن 1989ء سے ہر سال عوام میں آبادی کے مسائل اور چیلنجوں کا شعور بیدار کرنے کی غرض سے منایا جاتا ہے جو ضروری اسلئے بھی ہے کہ 1950ء میں 2.5 ارب آبادی والی دنیا آج 7,713,073,043 کی تشویشناک حد تک آگئی ہے۔

گزرتا ہوا ہر سیکنڈ آبادی میں 2.6 افراد کا اضافہ کرجاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 15 سال بعد یہ شرح 8.5 ارب تک جا پہنچے گی جبکہ 2100ء میں کرہ ارض 11.2 ارب انسانوں پر مشتمل ہوگا۔

صورتحال یہ ہے کہ سال 2019ء کے گزرے ہوئے چھ ماہ میں 67,386,584 بچے پیدا ہوچکے ہیں۔ ان بچوں نے اسی دنیا میں آنکھ کھولی ہے جہاں بھوک سے روزانہ 22،950 افراد روزانہ مرجاتے ہیں۔

پاکستان کا شمار بڑھتی ہوئی آبادی کا شکار ممالک میں ہوتا ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تادم تحریر ہماری آبادی 204,489,483 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ فرٹیلیٹی کی شرح 3.65 ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ایک جانب ملک کے سات کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں تو دوسری جانب اسے دنیا میں زیادہ آبادی والے 10 ممالک میں پاکستان کا چھٹا نمبر دیا جاچکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اضافے کی یہ شرح اگر برقرار رہی تو 2050ء میں پاکستان کی آبادی 35 کروڑ سے بڑھ جائے گی اور پاکستان چھٹے سے پانچویں نمبر پر آجائے گا۔

گزشتہ دنوں میری ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جن کیلئے اپنے دو بچوں کو پڑھانا اور دو وقت کا کھانا بھی دشوار ہوتا ہے۔ ایسے میں ان کے ہاں ایک نئے مہمان کی آمد کم از کم میرے لئے تو باعث حیرت ہی تھی۔ استفسار پر محترمہ فرمانے لگیں کہ آنے والا اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے تاہم انسان تدبیر کا پابند ہے۔ یقیناً رزق دینے کا وعدہ اللّہ نے کیا ہے لیکن حصول رزق کیلئے جدوجہد کی تلقین بھی کی گئی ہے۔

ایسی گھمبیر صورتحال میں دینی تقاضوں کےساتھ دنیاوی مصلحتوں سے مطابقت رکھنے والی تعلیم اور تربیت دینے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اوّلین ذمہ داری گھر والوں کی ہے جبکہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے آگاہی مہم چلانے، مغربی امداد کا انتظار کئے بغیر اپنے وسائل سے اس مسئلے کو حل کرنے، روزگار اور معاش کے وسائل کو پھیلانے کی انتہائی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے جو حکومت کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانے کے ساتھ عوام کو مسائل کا حقیقی آئینہ دکھاتے ہوئے انہیں صورتحال سے آگاہ کرسکتا ہے ۔

یاد رکھیں کہ آبادی میں کمی، نئی بستیوں کے قیام اور وسائل میں اضافہ کے بغیر تعمیر و ترقی کا ایجنڈا فروغ نہیں پاسکتا ۔تعمیری امور عمل میں نہ آنے سے ملک و قوم کا مستقبل مخدوش ہوسکتا ہے لہٰذا سوچئے، سمجھئے اور عمل کیجئے ہر اس بات پر جو آپ کے اور آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بہتری کی نوید دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں