19

اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے اتھارٹی قائم

حکومت نے بے نامی ایکٹ کے تحت اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے اتھارٹی قائم کر دی ہے۔

ایف بی آر کی طرف سے اتوار کو جاری کی گئی پریس ریلیزکے مطابق بے نامی ایکٹ 2017ء پر عملدرآمد کے لئے قائم ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی آج (یکم جولائی )سے کام شروع کر دے گی.

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بے نامی ایکٹ 2017ءکے تحت قائم کردہ بے نامی زونز میں افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔

گریڈ بائیس کے افسر جمیل احمد انسداد بے نامی ٹرانزیکشن اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ تنویر اختر اور خاقان مرتضیٰ اتھارٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد زونز میں انسداد بے نامی ٹرانزیکشن اتھارٹی کے افسر بھی تعینات کردیئے گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کسٹمز کے چیف کلیکٹرز اورکلیکٹرزکو بھی خصوصی اختیارات مل گئے ہیں،افسران کو اختیارات فنانس بل 2019 کی منظوری کے نتیجے میں دیئے گئے۔

فنانس بل کے مطابق ایسے کیسوں میں ٹیکس و ڈیوٹی فراڈ کی شقوں کے تحت کارروائی ہو گی۔ جرم ثابت ہوجانے پر 2 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

درآمد یا برآمد ہو جانے والی اشیاء کی مالیت کا 3 گنا جرمانہ بھی ہو سکے گا۔فنانس بل کے مطابق سنگین جرم کی صورت میں اشیاء بحق سرکار ضبط ہو سکیں گی۔

ملوث درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو 10 سال قید کی سزا ہو سکے گی۔ تجارت مس ڈیکلریشن کے ذریعے ناجائز مالی وسائل منتقل کرنے کو ٹیکس و ڈیوٹی چوری فراڈ کی تعریف میں شامل کر لیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں