54

’آخری اوورز میں جیت کا کوئی ارادہ نظر کیوں نہیں آیا؟’

کہا جاتا ہے ’یہ عشق نہیں آساں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کا فین بننا اس کمبخت عشق سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

افغانستان والے میچ کے بعد پاکستان کے جن پرستاروں کی جانیں بچ گئی تھیں، ان کی امیدوں کا دوسرا محور یعنی بھارت تو اگلے ہی دن ناکام ہوگیا۔

انگلینڈ کے خلاف مقابلے میں بھارت کی شکست کا مطلب ہے کہ اب پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف اپنا آخری مقابلہ تو لازماً جیتنا ہی ہے لیکن ساتھ ہی نیوزی لینڈ سے بھی توقع رکھنی ہیں کہ وہ انگلینڈ کو آخری میچ میں شکست دے گا۔ یعنی پاکستان کے شائقین کو ’92ء کی طرح‘ آخر تک انتظار کرنا ہوگا تبھی صورت حال واضح ہوگی۔

ویسے بھارت کی اس شکست نے ورلڈ کپ کو بہت ہی دلچسپ بنا دیا ہے کہ اب تک صرف ایک یعنی آسٹریلوی ٹیم ہی باقاعدہ طور پر سیمی فائنل مرحلے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکی ہے اور باقی 3 مقامات کے لیے مقابلہ ہے 5 ٹیموں کا۔


ایک طرف میزبان انگلینڈ ہے کہ جسے بھارت کے خلاف اس شاندار کامیابی کے بعد ضرورت ہے نیوزی لینڈ کے خلاف اگلا میچ جیتنے کی۔ دوسری جانب پاکستان ہے کہ جو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں انگلینڈ کی شکست کا منتظر بھی ہے اور اسے بنگلہ دیش کے خلاف آخری میچ میں کامیابی بھی حاصل کرنی ہے۔

نیوزی لینڈ نسبتاً آسان پوزیشن پر ہے کہ اگر اپنا آخری میچ انگلینڈ سے ہار بھی گیا تو اس کا نیٹ رن ریٹ پاکستان اور بنگلہ دیش سے بہتر ہی رہے گا۔ سب سے مشکل صورت حال بنگلہ دیش کے لیے ہے کہ جسے اپنے آخری دونوں میچ جیتنے ہیں، وہ بھی بھارت اور پاکستان کے خلاف، اور ساتھ یہ امید بھی لگانی ہے کہ نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا دے گا۔ یعنی کہ اس وقت جبکہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے پہلے صرف 7 میچ باقی ہیں، تو کچھ زیادہ ہی ‘اگر، مگر’ موجود ہے اور اس بے یقینی کی کیفیت میں مزید اضافہ کیا ہے بھارت کی انگلینڈ کے ہاتھوں اس شکست نے۔

یہ ایک عجیب و غریب مقابلہ تھا۔ ایک چھوٹے سے میدان پر کہ جس کی ایک سمت کی باؤنڈری صرف 59 میٹر کی تھی، وہاں انگلینڈ نے دھواں دار بیٹنگ کی اور بھارت کی اصل طاقت یعنی اسپن باؤلنگ کی دھجیاں اڑا دیں۔ لیکن جواب میں بھارت کا ردِعمل حیران کن تھا۔ 338 رنز کے تعاقب میں اس نے پہلے 10 اوورز میں صرف 28 رنز بنائے اور آخری 10 اوورز میں 72 رنز جبکہ ضرورت 100 سے زیادہ رنز کی تھی۔

ایسا نہیں ہے کہ بھارت کے پاس وکٹیں نہیں تھیں یا کوئی ایسا کھلاڑی کریز پر تھا کہ جسے میچ ‘فنش’ کرنا نہ آتا ہو۔ کریز پر مشہورِ زمانہ ‘فنشر’ مہندر سنگھ دھونی تھے لیکن ان کے ہوتے ہوئے بھی بھارت نے آخری 30 میں سے 7 گیندیں ضائع کیں، 20 پر ایک، ایک رن دوڑا اور 3 چوکے اور صرف ایک چھکا لگایا۔ بھارت کی پوری اننگز کا یہ واحد چھکا آخری اوور میں جا کر لگا، جس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ 337 رنز کے جواب میں بھارت نے بنائے 306 رنز اور باقی وکٹیں ساتھ گھر لے گیا کہ شاید کسی بُرے وقت میں کام آئیں گی۔

یہ ایسی حکمتِ عملی تھی جو ناصرف دنیا بھر کے کرکٹ شائقین بلکہ خود سابق بھارتی کھلاڑیوں اور میچ کے دوران کمنٹری کرنے والوں کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ جب انگلش کمنٹیٹر ناصر حسین نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر دھونی کر کیا رہے ہیں؟ تو سارو گنگولی نے جواب دیا کہ میں اس کی کوئی صفائی نہیں پیش کرسکتا۔

صرف گنگولی ہی نہیں بلکہ دوسرے بھارتی تبصرہ کار سنجے مانجریکر بھی حیرانگی کے عالم میں تھے، بلکہ کہہ بیٹھے کہ آخری چند اوورز میں مہندر سنگھ دھونی کی حکمت عملی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے میچ کے بعد ہونے والی تقریب میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی تک سے یہ پوچھ لیا کہ یہ آخری اوورز میں جیت کا کوئی ارادہ نظر کیوں نہیں آیا؟ یہ سوال بالکل بنتا ہے کیونکہ ایسا تاریخ میں صرف ایک بار ہوا ہے کہ ہدف کے تعاقب کے دوران دھونی ناٹ آؤٹ میدان سے واپس آئے ہوں اور بھارت کامیاب نہ ہوا ہو۔

مزید پڑھیے: تجربے نے افغانستان کو شکست اور پاکستان کو جیت سے نواز دیا

بہرحال، بھارت اس ورلڈ کپ 2019ء میں ناقابلِ شکست تھا اور تقریباً سارے ہی میچز میں بہت جاندار کارکردگی دکھاکر جیتے۔ لیکن ورلڈ کپ اس مرحلے پر ہے جب کامیابی کے راستے پر یکساں رفتار کے ساتھ چلتے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے، لیکن انگلینڈ کے ہاتھوں شکست بھارت کے اعتماد کو بہت نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے دوسرے حریفوں کا حوصلہ بھی بلند ہوسکتا ہے کہ ‘ٹیم انڈیا’ ناقابلِ شکست نہیں ہے۔

بھارت کی اس ناکامی سے بلاشبہ پاکستان کو پریشانی ہو رہی ہے لیکن اس سے زیادہ تشویش بھارت کو اپنے لیے ہوگی۔ ویسے یاد آ رہا ہے کہ 92ء میں بھی انگلینڈ نے بھارت کو ہرایا تھا ۔۔۔۔ یعنی 92ء میں بھی ایسا ہی ہوا تھا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں