93

صحافیوں کے لیے فیس بک سیفٹی ٹولز متعارف

فیس بک دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب 38 کروڑ سے زائد ہے اور لگ بھگ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہی اس سوشل میڈیا نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس میں میڈیا بھی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ لاکھوں بلکہ کروڑوں صحافی بھی فیس بک کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ لوگوں کو ملکی حالات کی اطلاعات فراہم کرنا اور لوگوں سے براہ راست رابطے وغیرہ۔

اب فیس بک نے صحافیوں کی ذاتی معلومات اور اکاﺅنٹس کے تحفظ کے لیے ٹولز متعارف کرائے ہیں تاکہ وہ خود کو آن لائن محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے رابطوں اور ذرائع کا تحفظ بھی کرسکیں۔

صحافیوں کے لیے متعارف کرائے گئے ٹولز درج ذیل ہیں۔

اپنے پاسورڈ کو محفوظ بنائیں

درحقیقت ہر صارف کا ہی پاس ورڈ منفرد ہونا چاہیے جبکہ اسے محفوظ رکھنے کے لئے کبھی کسی کے ساتھ یا کسی جگہ شیئر نہ کریں۔ پاس ورڈ میں شناخت کے لئے آسان معلومات جیسا کہ اپنا نام، فون نمبر، تاریخ پیدائش اور ای میل ایڈریس استعمال نہ کریں۔ ایک ٹپ یہ ہے کہ پاس ورڈ منیجر استعمال کریں جو آپ کے پاس ورڈز محفوظ طریقے سے رکھے گا اور آپ کے تمام اکاؤنٹس کے لئے مضبوط ترین پاس ورڈ تخلیق کرے گا۔

غیرشناخت شدہ ڈیوائسز سے الرٹ حاصل کریں

لاگ ان الرٹس فعال کریں تاکہ جب بھی اورجہاں کہیں سے بھی اگر کوئی غیر شناخت شدہ ڈیوائسز سے آپ کے اکا ¶نٹ کو لاگ ان کرنے کے کوشش کرے گا تو آپ کو نوٹیفیکیشن موصول ہوگا۔ اکاؤنٹ سیٹنگ میں سیکیورٹی اور لوگ ان سیکشن میں جاکر غیرشناخت شدہ لاگ ان کے بارے میں الرٹس کو فعال (آن) کریں۔ جب یہ الرٹس آن ہوں گے تو جب کبھی کوئی غیرشناخت شدہ ڈیوائس یا براﺅزر سے آپ کے فیس اکاؤنٹ لاگ ان ہوگا یا لاگ ان ہونے کی کوشش ہوگی تو آپ کو ای میل یا نوٹیفیکیشن کے ذریعے مطلع کردیا جائے گا۔

ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن کو آن رکھنا

ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن آپ کے اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک اور اضافی طریقہ ہے۔ یہ بھی آپ کو اکاﺅنٹ سیٹنگ میں سیکیورٹی اور لاگ ان سیکشن میں ملے گا۔ جب آپ ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن آن رکھیں گے، تو ہر لاگ ان کرتے وقت مخصوص سیکیورٹی کوڈ ڈالنے کے لیے اس وقت کہا جائے گا جب بھی آپ اپنے اکاؤنٹ نئے کمپیوٹر، فون یا براؤزر سے لاگ ان کی کوشش کریں گے۔

فیس بک چیک اپ ٹولز کا استعمال

اپنے پروفائل کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے اور اپنے پروفائل سیکیورٹی سیٹنگ کا انتظام کرنے کے لیے سیکیورٹی چیک اپ کو استعمال کریں۔ اپنی ذاتی معلومات اور پوسٹ اشاعت کرنے کے لیے پرائیویسی چیک اپ کو استعمال کریں کہ آپ اپنی معلومات کس کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات آپ انہیں سب کے ساتھ شیئر اور بعض اوقات مخصوص لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

پیج اور پروفائل میں اپنی موجودگی کو منیج کریں

فیس بک میں آپ جتنا چاہیں پبلک اور جتنا چاہیں پرائیویٹ ہوسکتے ہیں۔ آپ فیس بک کے اپنے سامعین یا ناظرین کے ساتھ جتنا پبلک اور پرائیویٹ ہونا چاہتے ہوں یہ آپ کے اختیار میں ہے۔ ٹائم لائن اور ٹیگنگ ٹیب کی سیٹنگ میں آپ یہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ آپ کے پوسٹس اور اپڈیٹس کو کون کون دیکھ سکتاہے۔ دوستوں کی جانب سے آپ کے پوسٹس پر ہونے والے ٹیگس کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ٹیگ کو منظور کرنے کی صورت میں، جس بندے نے ٹیگ کیا ہوا ہو وہ اور اس کے فرینڈز آپ کے پوسٹ کو دیکھ سکیں گے۔ ٹیگ ریویو سیٹنگ کے تحت ’ٹائم لائن اینڈ ٹیگنگ‘ میں یہ آپشن آپ کو مل جائے گا۔

پوسٹ کرتے وقت اپنے لوکیشن کو کنٹرول کریں

فیس بک پوسٹس پر مقام (لوکیشن) شامل کرنے کا آپشن موجود ہے۔ فیس بک آپ کی لوکیشن خود شیئر نہیں کرتا، لیکن فیس بک پر پوسٹ کرتے وقت فون لوکیشن کو پوسٹ میں شامل کرنا یا اس آپشن کو آف رکھنا ایک اچھا خیال ہے جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ اپنی لوکیشن سیٹنگ کو انڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائسز پر اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔

اپنی کمیونیکیشن کو محفوظ رکھیں

اپنے سورس کے ساتھ پرائیویٹ کمیونیکیشن کے لیے واٹس ایپ اور فیس بک مسنجر کو استعمال کریں۔ صحافی فیس بک کو ٹی او آر(TOR) براؤزر کے ساتھ استعمال کریں، تاکہ آپ آئی پی ایڈریس مخفی رکھ سکیں اور فیس بک، ایڈورٹائزرز، مقامی موبائل فون نیٹ ورکس اور آئی ایس پیز دیکھ نہ سکیں کہ آپ کہاں سے لاگ ان ہیں۔ یہ فیس بک پر اَن لائن رہتے ہوئے آپ کی لوکیشن اور کنکشن کو محفوظ رکھتا ہے۔https://facebookcorewwwi.onion/ پر فیس بک ٹی او آر برا ¶زر کے ساتھ ایکسس کریں۔ اربوٹ پراکسی ایپ کے ذریعے انڈرائیڈ پر بھی فیس بک ٹی او آر براؤزر سپورٹ دیتا ہے، اربٹ پراکسی ایپ آپ گوگل پلے پر ڈا ¶ن لوڈ کرسکتے ہیں۔

ہراساں کرنے والوں کو بلاک کریں

جب آپ کسی کو بلاک کرتے ہیں تو وہ نہ آپ کی ٹائم لائن پر پوسٹ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی آپ کو ٹیگ کرسکتا ہے۔ اگر بلاک ہونے والا فیس بک فرینڈ ہے، بلاک کرنے سے وہ ان فرینڈ ہوجائے گا۔

بد کلامی اور نفرت انگیزی کو رپورٹ کریں

اسپیم، بدکلامی اور نفرت انگیز مواد پر مشتمل پوسٹس اور کمنٹس کو رپورٹ کریں۔ اس کے لئے“Report”کا آپشن استعمال کریں، یہ آپشن پوسٹ اور کمنٹس کے ساتھ موجود ہوتا ہے، فیس بک رپورٹ کا جائزہ لے گا اور اس پر مناسب کارروائی عمل میں لائے گا۔ دھمکی کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کریں۔ ہراساں کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کرنے کے لیے، اسے بلاک کرنے سے پہلے اسکرین شاٹس لے لیں اور یوآر ایل کاپی کریں کیونکہ اسے بلاک کرنے کے بعد آپ اس کے پچھلے پوسٹس کمنٹس وغیرہ نہیں دیکھ پائیں گے۔

اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کریں

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہے یا کسی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، آپ سے ہر ممکن طور پر محفوظ کرنا چاہیں گے۔ دو ہرے اتھنٹیکیشن کو فغال رکھ کر آپ ان پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر آپ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان ہو سکتے ہو تو ہم تجویز دیں گے کہ سب سے پہلے اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں۔ لاگ ان ہونے کے بعد سب سے پہلے کنٹیکٹ انفارمیشن کو چیک کریں، یہ جاننے کےلئے کیا کہ ہیکر نے اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں کی ہے۔ اگر آپ آپنے اکاؤنٹ میں جا نہیں سکتے تو ہم مدد کر سکتے ہیں۔ اکاؤنٹ کو محفوظ کرنے کے لئے ہم آپ سے کہیں گے کہ اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں اور حالیہ لاگ ان ایکٹیویٹی کا جائزہ لیں۔ یا پھر آپ اس لنک پر جائیں: facebook.com/hacked

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں