44

قومی اسمبلی: بجٹ پر بحث کے بجائے احتجاج کی روش جاری

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران آج بھی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا تو ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔

ڈپٹی اسپیکر نے ایوان میں طرز عمل سے متعلق قواعد وضوابط نمبر 30 کی تفصیلات کی کاپی سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ تمام ارکان ان کی خلاف ورزی سے اجتناب کریں۔ ایوان کی توقیر بڑھانے کے لیے ارکان اسمبلی نے یہ قواعد خود بنائے تھے۔

انہوں نے پیپلزپارٹی اراکین خصوصاً آغا رفیع اللہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آج تیسرا دن ہے قائد حزب اختلاف کو اپنی تقریر کو مکمل کریں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل لفظ دروغ گوئی اور غلط بیانی استعمال کیے مگر اسے حذف کر دیا گیا، کیا یہ غیر پارلیمانی لفظ ہے؟ آپ کے کان میں جو کوئی کہے آپ اسے حذف کر دیتے ہیں۔

قاسم سوری نے جواباً کہا کہ میں جس کو درست سمجھتا ہوں اسے درست سمجھتا ہوں جسے غلط سمجھا اسے حذف کر دیا۔

شہباز شریف نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ملک میں اندھیرے تھے، ہم نے 11 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی اور ملکی معیشت کو ٹھیک کیا۔

اس دوران حکومتی اراکین نے شور مچانا شروع کر دیا اور شہبازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کیا۔

خواتین اراکین نے موبائل فون سے ویڈیو بنانا شروع کی تو ڈپٹی اسپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کو ویڈیو بنانے سے منع کیا۔

حزب اختلاف نے ڈائس کا گھیراؤ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔ حکومتی ارکان بھی اسپیکر ڈائس کے پاس پہنچ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔

وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کا بتایا پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات میں طے ہوا ہے کہ ایوان جمہوری انداز میں چلایا جائے گا۔ اراکین ایوان کی قدر بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کو برداشت کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں