127

نظم

نظم کا عنوان صوة کشمیر

سنا ھے خدا نے زمین پر ایک خطہ جنت کاسا بسایا ھے
لیکن“
سناھےاس خطے میں ظلم اسا ھوتا ھےکہ جو ذباں بیاں نہ کر سکے
اورقلم کی نوک پر لانا دشوار لگے

سنا ھے اس جنت نظیر وادی میں سچ بولنے پر زبان کاٹ
دی جاتی ھے

اور دیکھنے پر آنکھیں نکال دی جاتی ھیں

سناھے وہاں دشمن مظلوموں ہی کو ظلم کرتے ھیں
مگر
وہ نہی جانتے
جن شہدا کا خون اس مٹی پہ گرتا ھے
پھول بن کراگتا ھے
اور لہرا لہرا کر دشمن سے کہتا ھے

سنومیری آواز کو اب تم
دبا نہیں پاو گے
کہ اب میری
آہ
ایوانوں تک نہیں
عرش تک جاتی ھے

جسے تم نھیں جانتے وہ خدا اب انصاف کرنے والا ھے

ظلم مٹنے والا ھے مٹ کےرہے گا

کشمیر ہمارا ھے ہمارا رھے گا

کہ میں صوة کشمیر ھوں

جاگتا ضمیر ھوں

شاعرہ : ( روبینہ اللہ وسا یا )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں