23

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پانی و بجلی کے بڑے ترقیاتی منصوبے

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بڑے بڑے وفاقی ترقیاتی منصوبوں کیلئے بڑا بجٹ مختص کرنے کی تجاویز دے دی ہیں۔ ہائیڈل پاور پراجیکٹس اور نہروں کے نظام کو بہتر بنانے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپےمختص کیے جارہے ہیں۔

ان منصوبوں کے لیے 68.97 ارب روپے اندرونی وسائل اور16ارب روپے غیر ملکی قرض سے خرچ ہونگے۔

پانی کے شعبے میں28 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ 2150 میگاواٹ ہائیڈل داسو ہائیڈل پاور پراجیکٹ کیلئے 44ارب58کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے16ارب روپے رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

دیامیر بھاشاڈیم کے متاثرین کی بحالی کیلئے 4 ارب روپے تجویزکیے گئے ہیں۔ گروکھ سٹوریج ڈیم کیلئے 1ارب34کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں اور مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 15ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

کچھی کینال کیلئے 6.6 ارب روپے رکھنے کی تجویز کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں 20چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیلئے بھی 1ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

سندھ میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیلئے60کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

969 میگاواٹ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلیئے 34 ارب29کروڑ روپے رکھنے کی تجویزہے۔ 1410میگاواٹ کے تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کیلئے 3ارب29کروڑ روپے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے کیلئے 14ارب34کروڑ روپے رکھنے کے علاوہ 242 میگاواٹ ورسک ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے4ارب 34کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح منگلا ڈیم کے310 میگاواٹ کے پاور اسٹیشن کی توسیع کیلئے5ارب57کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ خیالی خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 69کروڑ60لاکھ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔

گولان گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 8ارب68کروڑ روپے ،منگلاریزنگ کیلئے14کروڑ10لاکھ روپےاوررینی کینال پراجیکٹ کیلئے 50کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

یہ بھی پڑھیے:ترقیاتی بجٹ کیلئے 1837ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

گومل زام ڈیم کیلئے 10لاکھ روپے ،کرم تنگی ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 60کروڑ روپے اورنولانگ سٹوریج ڈیم کیلئے80کروڑ روپے رکھنے تجویزدی گئی ہے۔ بوسال ڈیم کیلئے1ارب30کروڑ روپے رکھنے کی تجویزسامنے آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں