36

’ججز کے خلاف ریفرنس قانون کے مطابق ہے‘

پنجاب بار کونسل کی وکلا ایکشن کمیٹی کی منظور شدہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان نے ججز کے خلاف جو ریفرنس بھیجا ہے وہ قانون کے مطابق ہے، سپریم جوڈیشل کونسل ان ریفرنسز پر میرٹ پر فیصلے کرے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئینی اداروں کی اہمیت قائم رہنی چاہیئے، سپریم جوڈیشل کونسل سب کا احتساب کرے، امان اللہ کنرانی نے بلاجواز اعلان کئے ہیں، وکلاء سپریم جوڈیشل کونسل کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وکلاء کی منظور کردہ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ہم آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انصاف کی فراہمی کے لئے وکلاء اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے، سپریم جوڈیشل کونسل کو اس کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔

سیکرٹری پنجاب بار کونسل شاہد گوندل کی زیرصدارت اجلاس میں مختلف وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ ہمیں شخصیات کو نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کرنا ہے، آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کا احتساب ہوسکتا ہے۔

پنجاب بار کونسل وکلاء ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ ججز کے خلاف ریفرنس کی سماعت سے پہلے ہی احتجاج سمجھ سے بالا تر ہے، اس معاملے میں قوانین کے مطابق چلنا چاہیئے۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر جج پر لگنے والے الزامات درست نہیں ہوں گے تو ریفرینس خود بخود ختم ہو جائے گا۔

ممبر پنجاب بار جمیل اصغر بھٹی نے مطالبہ کیا کہ جن دو ججز کے خلاف ریفرنس ہے وہ اس کے فیصلے تک رخصت پر چلے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جج کے خلاف ریفرنس بھیجنا ایک قانونی و آئینی راستہ ہے، فیصلہ کرنے کا اختیار سپریم جیوڈیشل کونسل کو حاصل ہے۔

پاکستان بار کونسل کے رکن شفیق بھنڈارہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکیل دلیل سے بات کرتا ہے، وکلا کو دھمکیاں زیب نہیں دیتیں۔

راولپنڈی بار کے سیکرٹری جنرل شہزاد میر نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، کوئی قوت وکلا کو تقسیم کر کے اپنا مفاد پورا کرنا چاہتی ہے۔

صدر ڈسٹرکٹ بار سرگودھا واصف بھٹی کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ بار کے صدر کے اعلان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہیں، انہوں نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، چاہے وہ جج ہی کیوں نہ ہو، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی رکنیت معطل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

سابق صدر وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل رمضان چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی وکلاء کا کھلا اجلاس بلائیں اور ان سے فیصلہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم وکلاء کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے، جتنے دن سپریم جیوڈیشل کونسل کی کارروائی چلتی ہے، دونوں جج خود عدالتی ذمہ داریوں سے الگ کر لیں۔

سابق ممبر پنجاب بار کونسل رائے بشیر احمد کھرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے ملک میں جرنیلوں کا احتساب ہوا، وکلاء بھی احتساب کے دائرے میں آئے اور سزا پائی، ججز مقدس گائے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ججز کے ہاتھ صاف ہیں ان کو ڈرنا نہیں چاہیئے، وہ اپنا موقف پیش کریں اور سپریم جوڈیشل کونسل سے انصاف حاصل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں