35

چیئرمین نیب کی ویڈیو: ’کسی کے پاس ثبوت ہے تو سامنے لائے‘

معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سوشل میڈیا پر گردش کررہی مبینہ ویڈیو کے حوالے سے کہا ہے کہ بے شمار جعلی آڈیوز، ویڈیوز اور تصاویر چلتی رہتی ہیں، کسی کے پاس اس حوالہ سے کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نیب سمیت دیگر اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حزب اختلاف چیئرمین نیب کی مبینہ آڈیو کے معاملے پر جان بوجھ کر وزیراعظم کو ملوث کر رہی ہے حالانکہ حکومت کا اس معاملے پر واضح بیان آ چکا ہے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف لا پتہ قائد حزب اختلاف ہیں، انہوں نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں کریں گے لیکن ان کے بیانیے حالات و واقعات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو ٹرن کا طعنہ دینے والوں نے آج تاریخی یو ٹرن لیا، خواجہ آصف اور خاقان عباسی نے پارلیمانی کمیٹی کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب چیئرمین کی مبینہ آڈیو جس شخص کے چینل پر چلی وہ صرف پرائیویٹ مشاورت کے حوالہ سے عمران خان کے ساتھ تھے، اب انہیں اس کام سے بھی روک دیا گیا ہے۔

معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ جن کی گردنوں کے گرد نیب کا شکنجہ تنگ ہوتا جا رہا ہے وہی اب گھٹیا ویڈیوز انجینئر کر رہے ہیں اور ایسے گروہ کا سہارا لے رہے ہیں جو خود اس قسم کے بدنام کاموں میں مشہور ہیں۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تتر بتر حزب اختلاف کے پاس متفقہ بیانیہ ہے ہی نہیں، جب حوصلے ختم ہو جائیں تو اس طرح کی افرا تفری سامنے آتی ہے، نوازشریف اور شہباز شریف کا الگ الگ بیانیہ مفادات کے تحت رخ بدلتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اداروں کو اپنا تابع بنانے کے دن گنے جا چکے ہیں، عدالتوں کو یرغمال بنا کر فیصلے نہیں لیے جا سکتے، من پسند فیصلوں کا وقت گزر چکا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اداروں کے استحکام میں معاونت کرے اور نیب کی طرف سے آنے والی تردید کو تسلیم کرے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نیب کو اپنا بیانیہ میڈیا کے سامنے اپنے ترجمان کے ذریعے سامنے لانا ہو گا، میں عمران خان کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے کی مذمت کرنے آئی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں