43

علی ظفر،میشا شفیع کیس:عدالت کا اہم حکم

لاہور کی مقامی عدالت نے علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی سے متعلق میشا شفیع کی درخواست پر کیا گیا سپریم کورٹ کا حکم نامہ اور تمام گواہان کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

ادکارہ میشا شفیع کے خلاف علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی پر لاہور کی مقامی عدالت میں سماعت ہوئی۔

علی ظفر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہم تمام گواہوں کی شہادتیں بیان حلفی کے ساتھ جمع کروائیں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ کہاں ہے؟

میشا شفیع کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ جلد معزز عدالت میں پیش کردیں گے ۔

علی ظفرکے وکیل نے کہا جب ہم بیان حلفی جمع کرادینگے تب فریقین کے وکلا جرح کرلیں گے۔

علی ظفرکے وکیل کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ تین گواہان کراچی میں ہیں ،بیان حلفی کراچی میں دستخط کرانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔عدالت ہمیں آج کی سماعت میں مہلت فراہم کرے۔

عدالت نے علی ظفر کے وکیل کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے سماعت 21 مئی تک ملتوی کردی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ کا حکم نامہ اور تمام گواہان کے بیان حلفی جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے گلوکار علی ظفر کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

یاد رہے 14مئی کو گلوکارہ میشا شفیع ،اداکار علی ظفر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے دعوی سے متعلق درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

عدالت نے 9 گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دے دی تھی ۔

سپریم کورٹ نے گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عدالت نے علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ میشا شفیع کے وکیل نے گواہان پر جرح کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہاتھا کہ میشا شفیع کے وکیل گواہان پر جرح کی تیاری سات روز میں مکمل کریں۔تیاری کے بعد ایک ہی روز گواہان پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں