48

امریکہ: فلوریڈا میں اساتذہ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت؟؟؟

امریکہ کی  ریاست فلوریڈا نے اساتذہ کو اپنے ساتھ اسکول میں اسلحہ رکھنے کی اجازت دینے کا بل منظور کرلیا ہے۔ بل ریاستی اسمبلی نے منظور کیا ہے۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق فلوریڈا کی اسمبلی نے قانون سازی کے لیے جو بل منظور کیا ہے اس کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔

فلوریڈا کی اسمبلی سے منظور کیا جانے والا بل سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ وقواعد و ضوابط کے مطابق اسمبلی سے منظور کیا جانے والا بل موجودہ ری پبلکن گورنر کے پاس دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔

فلوریڈا کے گورنر کے دستخط کے بعد اسمبلی سے منظور کیا جانے والا بل قانون کی شکل میں نافذ العمل ہوجائے گا۔

منظور کیے جانے والے نئے قانونی بل پر یہ سوالات مقامی ذرائع ابلاغ میں اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کیا منظور کیا جانے والا بل فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام میں معاون و مدد گار ثابت ہوگا؟

فلوریڈا کے مقامی ذرائع ابلاغ میں متعدد سماجی ماہرین کی یہ رائے سامنے آئی ہے کہ اٹھایا جانے والا قدم تعلیمی اداروں میں ہونے والی فائرنگ کے پے در پے واقعات کی روک تھام میں معاون و مددگار ثابت نہیں ہو گا۔

فلوریڈا کی اسمبلی کی جانب سے منظور کیے جانے والے بل کے مطابق تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو 144 گھنٹوں کی تربیت دی جائے گی جس کے بعد وہ اپنے ساتھ اسلحہ رکھنے کے مجاز ہوں گے۔

پاکستان میں 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے ہونے والے حملے کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے بھی ملک بھر میں بالعموم اور خیبرپختونخوا میں بالخصوص اسکولوں کے اساتذہ کو اپنے ساتھ لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

آرمی پبلک اسکول پشاور میں کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں 150 سے زائد طلبا شہید ہوگئے تھے۔

ملک کے مختلف اسکولوں کی انتظامیہ نے اس وقت جہاں ایک جانب سیکیورٹی گارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا تھا، سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرائے گئے تھے تو وہیں اپنے اساتذہ اور دیگر عملے کی مختصر تربیت کا بھی اہتمام کرایا تھا تاکہ خدانخواستہ ہونے والی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا فی الفور مقابلہ کیا جاسکے۔


حکومت پاکستان اور اسکولوں کی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدام اس وقت ملک کی سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم و نفسیات کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان کے بعض ماہرین نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ کمرہ جماعت میں مسلح استاد کی موجودگی بچوں کی نفسیات و تعلیم پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

سول سوسائٹی اور ماہرین تعلیم و نفسیات کی جانب سے کی جانے والی تنقید کے باوجود اسکولوں کی انتظامیہ کی ہدایت پر اساتذہ دوران اسکول اسلحہ اپنے ساتھ رکھتے رہے تھے مگر جب صورتحال میں بہتری آئی تو یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو دوران اسکول مسلح رکھنے کے لیے امریکہ کی ریاست فلوریڈا کی اسمبلی نے باقاعدہ قانون سازی کی ہے جب کہ پاکستان میں یہ اقدام ایک انتظامی حکمنامے کے ذریعے اٹھایا گیا تھا۔

فلوریڈا کی اسمبلی کی جانب سے منظور کیے جانے والے بل کے تحت اسکولوں کے اساتذہ اس ضمن میں بااختیار ہوں گے کہ اگر وہ اپنے ساتھ اسلحہ نہ رکھنا چاہیں تو ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی لیکن اگر وہ اسلحہ رکھنا چاہیں گے تو اس کے مجاز ہوں گے۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے فائرنگ کے واقعات کے بعد سول سوسائٹی کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اسلحہ کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے۔

عالمی ماہرین اس ضمن میں نیوزی لینڈ کی بھی مثال پیش کرتے ہیں کہ جہاں سانحہ کرائسٹ چرچ کے فوری بعد قانون سازی کرکے خود کار اور نیم خود کار ہتھیاروں کے رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

فلوریڈا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اساتذہ کے مسلح ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جتنی دیر میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے جائے وقوع پر پہنچیں گے اتنی دیر تک حملہ آور کو کسی حد تک شرانگیزی سے باز رکھنا ممکن ہو گا۔

ریاستی اسمبلی کی جانب سے منطور کیے جانے والے بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بیک وقت اساتذہ کے لیے اسلحہ برداری کے ساتھ ساتھ تعلیمی ذمہ داریاں ادا کرنا از حد مشکل ہو گا۔

اس ضمن میں بل مخالفین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ حملہ آور سب سے پہلے اساتذہ کو ہی نشانہ بنا نے کی کوشش کریں گے اور دوئم یہ کہ جب پولیس و دیگر سیکیورٹی ادارے ایمرجنسی کی صورت میں جائے وقوعہ پر پہنچیں گے تو ان کے لیے حملہ آوروں اور اساتذہ کے درمیان فرق کرنا بے حد مشکل ہوگا کیونکہ اس دوران وقت ازحد کم ہوتا ہے اور معصوم زندگیاں بچانے کے لیے فوری ردعمل کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق اورلینڈو کے سابق پولیس چیف اور فلوریڈا میں ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ وال ڈیمنگس کا ریاستی اسمبلی سے منظور کیے جانے والے بل کے متعلق کہنا ہے کہ اساتذہ کو مسلح کرنا تباہی کا نسخہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ بندوق کو غلط ہاتھوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہے۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں فائرنگ کے پیش آنے والے واقعات میں اب تک درجنوں انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ میں 20 بچوں سمیت 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ سانحہ 2012 میں پیش آیا تھا۔

گزشتہ سال مارجوری اسٹون میں واقع ڈگلس ہائی اسکول میں ہونے والی فائرنگ سے بھی 17 انسانی جانیں داعی اجل کو لبیک کہہ گئی تھیں۔

اسلحہ کنٹرول کے حوالے سے گزشتہ چند سالوں کے دوران امریکہ کی مختلف ریاستوں اورسماجی حلقوں میں تسلسل کے ساتھ بحث و مباحثہ جاری ہے۔ اس ضمن میں یہ رپورٹ بھی مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آچکی ہے کہ امریکی شہریوں کے پاس موجود ہتھیاروں کی تعداد 393 ملین کے قریب ہے۔

شہریوں کے پاس موجود ہتھیاروں میں پستول، بندوق، رائفل اور دیگر چھوٹا و بڑا اسلحہ شامل ہے۔ دلچسپ امرہے کہ امریکہ کی کل آبادی 326 ملین ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں