84

پنجاب میں دو صوبوں کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں پیش

پنجاب میں دو صوبوں کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیاہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ پھر قومی اسمبلی میں اٹھ گیا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے ارکان رانا ثنااللہ، احسن اقبال ، رانا تنویر حسین اور نجیب الدین اویسی نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا مجوزہ بل ایون میں پیش کردیا۔

قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کو بھیج دیا گیا۔

اس موقع پر رانا ثنااللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے قبل سیاسی ایشو کے طورپر صوبہ جنوبی پنجاب کا معاملہ اٹھایا گیا۔

پی پی پی نے تین کی بجائے دو صوبوں کی حمایت کردی۔ سید نوید قمر نے کہا کہ ہم پنجاب کے تین نہیں دو صوبے بنانے کے حامی ہیں ۔

پی پی پی اور تحریک انصاف پنجاب کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کے معاملے پر ایک پیج پر آگئیں۔

تحریک انصاف کے رہنما ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں نیا صوبہ نہیں بنانا چاہتی صرف سازش کرنا چاہتی ہے۔ بل قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کو بھیج دیا جائے۔ جولائی کے پہلے ہفتے میں جنوبی پنجاب صوبہ سیکرٹریٹ بنایا جارہا ہے۔

ہم تخت لاہور کے بعد اب تخت ملتان کے غلام نہیں بننا چاہتے، طارق بشیر چیمہ

مسلم لیگ ق کے رکن اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے مسلم لیگ ن کی طرف سے پیش کیے گئے بل کی حمائت کردی۔

طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم تخت لاہور کے بعد اب تخت ملتان کے غلام نہیں بننا چاہتے۔ سیکرٹریٹ بنانا چاہتے ہیں تو دو بنادیں۔ پنجاب اسمبلی میں بہاولپور صوبہ کا بل لارہے ہیں۔ حقائق یہ ہیں ان سب بڑی جماعتوں نے کبھی صوبے بنانے کی حمائت نہیں کی۔

ایم کیو ایم کے رکن اقبال محمد علی نے کہا ہ سندھ میں بھی انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنایا جائے۔ ایم کیو ایم رکن کے مطالبے پر پی پی پی ارکان نے شور شرابا شروع کردیا۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبے کے لئے عملی اقدام پی پی نے کیا۔سندھ میں صوبہ بنانا ہے تو سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور کرائیں

حکومت کی طرف سے پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کے آئینی ترمیمی بل کی حمایت کی گئی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف سندھ اسمبلی میں صوبے کی قرارداد کی بات کر رہے ہیں۔ جب پی پی پی نے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی تو اس وقت پنجاب اسمبلی میں بھی قرارداد پیش کرتے۔ آج جنوبی پنجاب صوبے کی باتیں کرنے والے کل تک لاہور سے منرل واٹر لے کر جاتے تھے۔جنوبی پنجاب کے سیاستدان گھر لاہور میں بناتے رہے بچے وہاں پڑھاتے رہےآج تخت لاہور کی باتیں کس منہ سے کرتے ہیں؟

اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان بھی جاری کیاہے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی 2012میں ’’بہاول پورجنوبی پنجاب ‘‘کے نام سے صوبے کا بل سینیٹ سے دوتہائی اکثریت سے پاس کراچکی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں