58

کے پی کے میں بلدیاتی نظام میں ’’تبدیلی‘‘، ضلعی نظامت کا خاتمہ

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بلدیاتی نظام میں ’’تبدیلی‘‘ لاتے ہوئے ضلعی نظامت کا نظام ختم کر دیا ہے۔

صوبے بھر میں ضلعی نظام کے متبادل کے طور پر میئر، ڈپٹی میئر اور چیئر مین کا نظام رائج ہو گا۔

مقامی حکومت کا نظام سٹی کونسل اور تحصیل کونسل پر مشتمل ہو گا۔ پشاور میں دو میئر ہوں گے۔ کابینہ نےبلدیاتی ترمیم بل کی منظوری دے دی ہے

یہ فیصلہ خیبر پختونخواہ کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ محمود خان نے کی۔ اجلاس میں یک نکاتی ایجنڈے کے تحت بلدیاتی نظام میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات شہرام ترکئی کا کہنا تھا کہ نئے لوکل گورنمنٹ بل کے تحت بلدیاتی نظام دو درجہ ہو گا۔ نئے ترمیم بل کے تحت ناظمین اب چیئر مین کہلائیں گے۔

تمام ڈویژن ہیڈ کوارٹرز میں سٹی گورنمنٹ بنائے جائیں گے۔ سٹی گورنمنٹ کا سربراہ میئر ہو گا۔ تحصیل، ٹائون اور میئر کے انتخابات براہ راہ منتخب کیے جائینگے۔ ویلیج اور نیبرہڈ کونسل میں ممبران کی تعداد 6 سے 7 ہو گی۔

مجوزہ ترامیم کے مطابق تحصیل ناظم کا انتخاب براہ راست ہو گا۔ تحصیل ناظم کو صحت، تعلیم، سماجی بہبود، پولیس اور دیگر محکمے تفویض ہوں گے۔

وزیراطلاعات کے پی کے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ترامیم سے پشاور میں دو میئر ہوں گے جبکہ تین تحصیل چیئر مین بنائے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں نے بلدیاتی ترمیم بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحصیل نظام سے لوگوں کے مسائل جلد حل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں