90

کالم

تحریر۔ محمداحمدناز
جرنیل ضیا الحق شہید کو آج لوگ ڈکٹیٹر، انتہا پسند، ملک دشمن اور پتہ نہیں کن کن القاب سے یاد کرتے ہیں،
مگر مجھے آج بھی 17 اگست 1988 کی وہ شام کچھ کچھ یاد کے جب ان کی شہادت کی خبر سرکاری میڈیا پر آئی تو میں اُس وقت میلاد چوک ہارون آباد میں تھا اور لوگ وہاں دکانیں اور سٹال بند کرنے لگے،
لوگ گھروں کو جانا شروع ہو گئے،
میں بھی گھر کو چل پڑا وہ مغرب کا وقت تھا،
اُن دنوں میں ہمارے گھر میں ٹی وی نہیں ہوا کرتا تھا تو میں نے ہماری گلی میں چوھدری ذوالفقار صاحب کے گھر جا کے ٹی وی پر نیوز اینکرز کو روتے ہوئے یہ خبر بار بار سناتے ہوئے دیکھا۔
کوئی لودھی صاحب ہوا کرتے تھے اُن کا پورا نام اب یاد نہیں ہے۔
مساجد میں اعلانات ہونے لگے اور ریڈیو ٹی وی پر تلاوت۔
گھروں میں اس کے ایصال ثواب کے لیے پڑھا گیا،
چوک چوراہوں کے نام اور بچوں کے نام اُن کے نام پر رکھے گئے،
کسی کو مٹھائی بانٹتے میں نے تو نہ دیکھا،
نہ ہی اُن کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لوگوں کو زبردستی بسوں میں بھر کر لایا گیا نہ کسی نے دکانیں زبردستی بند کروائیں۔
جبکہ آج تاریخ کو کس طرح مسخ کرکے نئی نسلوں کے سامنے اسے ایک ملک دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ ھمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم نے نئی نسلوں کو کھبی اصل حقائق سے واقف ہونے ہی نہیں دیا اور ان کو ہمیشہ تاریخ کے متعلق کنفیوز رکھا۔
وہ شخص جیسا بھی تھا ڈکٹیٹر تھا یا انتہا پسند تھا، مگر لوگ اس وقت اسکے لیے روئے۔
جبکہ اُن کے بعد میں نے لوگوں کو کسی اور لیڈر کے لیے روتے نہیں دیکھا۔
اور آج کوئی کچھ بھی کہے افسوس نہیں ہوتا افسوس تب ہوتا ہے جب آج اُن کے پالتو بھی اُن کے بارے میں بکواس کرتے ہیں۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں