45

آغاز اکرام اللہ خان عمراضافہ ڈگری کیس

آغاز اکرام اللہ خان عمراضافہ ڈگری کیس میں 10-4-2019 کو پیشی مقرر تھی، جس میں جج صاحب کے عمرہ پر جانے کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہو سکی،

یاد رہے کہ سابقہ امیدوار برائے صوبائی اسمبلی پی کے 99 کلاچی فریدون خان کے وکیل ملک جہانگیر اعوان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے دلائل 29 مارچ کو ہی مکمل کر لیئے تھے، لیکن آغاز اکرام اللہ خان کے وکیل تبدیل کر کے دلائل کے لیئے وقت مانگا تھا ان کے وکیل کے دلائل ابھی باقی ہیں،

سابقہ امیدوار برائے صوبائی اسمبلی پی کے 99 کلاچی فریدون خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا آغاز اکرام اللہ خان کے وکیل نے ماضی کی داستان پر مبنی جواب درخواست پیش کر دی ہے۔ اور اپنے موکل کو ان کے آباؤاجداد کے تاریک کردار میں چھپانا چاہتے ہیں۔ قانون وحقائق سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے آغاز اکرام اللہ خان کے وکیل اس سے پہلے بھی ماضی کی داستانوں پر مبنی دو درخواستیں دائر کر چکے ہیں، جس پر معزز عدالتوں نے وجوہات پر مبنی یعنی سپیکنگ آرڈر speaking order دے چکی ہے۔ جو انکی اخلاقی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

فریدون خان نے مزید کہا کہ آغاز اکرام اللہ خان کے وکیل تاخیری حربے استعمال کر کہ خود کو اور اپنے موکل کو تسلیاں دے رہے ہیں۔ لیکن مجھے اپنے اللّٰہ پر کامل یقین ہے۔ کہ اللّٰہ سچے لوگوں کا ساتھ دیتا ہے۔ اب وقت تبدیل ہو چکا ہے،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے۔

فریدون خان گنڈہ پور نے مزید کہا کہ میں کلین ہینڈ ، قانونی تقاضے پورے کر کہ اور نیک نیتی سے عدالت میں آیا ہوں، شروع دن سے ابھی تک اپنے موقف پر قائم ودائم ہوں۔ جبکہ مخالف فریق چور دروازے سے اپنے آپ کو اہل بنانا چاہتے ہیں۔ اس لئے ماضی کی داستانوں میں اپنے آپ کو چھپانا چاہتے ہیں۔ جو کہ دودھ کو دوبارہ تھنوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

فریدون خان گنڈہ پور نے مزید کہا کہ چور دروازے اور غیر قانونی طور پر اسمبلی میں آنے والوں کے کام بھی غیر قانونی ہوتے ہیں، جس کی زندگی مثال تحصیل درابن میں رود ٹویا میں غیر قانونی گرہ مستان بند کی تعمیر ہے۔ جو کہ صوبہ کے سب سے پسماندہ حلقہ پی کے 99 کی غریب عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں تو اور کیا ہے،

آغاز اکرام اللہ خان عمر میں اضافہ کیس کی آئندہ سماعت 2019-5-7 کو مقرر کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں