51

وزیر اعظم آفس نے گاڑیوں کے بعد کباڑ بیچنے کا اعلان کردیا

:وزیر اعظم آفس کی  گاڑیوں کے بعد کباڑبیچنے کی باری بھی آگئی ہے۔ وزیراعظم آفس میں استعمال شدہ ناکارہ سرکاری اشیاء کو بیچنے کا اعلان کردیاہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم آفس نے باقاعدہ نوٹس بھی جاری کردیاہے ۔ حکومت کی طر ف سے جاری نوٹس کے مطابق  سرکاری اشیاء کی نیلامی 29 اپریل کو وزیراعظم ہاؤس میں ہو گی ۔
وزیراعظم آفس کے زیر استعمال گاڑیوں کی فروخت کے بعد استعمال شدہ ٹائر، ٹیوب، بیٹریاں اوردیگر پرزہ جات کو نیلام کیا جائے گا۔
نیلامی کے ذریعے دفتری سامان، فوٹو کاپی مشین، کمپیوٹر اور استعمال شدہ اسٹیشنری آئٹم بھی فروخت کیے جائینگے۔ نیلامی میں باغ بانی سے متعلقہ آلات کو بھی فروخت کے لئے رکھا جائے گا۔
یہی نہیں کراکری، بیڈشیٹس، تولیئے اور دیگر سامان کی نیلامی بھی کی جائے گی۔

پی ایم آفس کے کباڑ کی نیلامی  وزیراعظم ہائوس کے بری امام روڈ پر واقع گیٹ نمبر 7کے قریب29 اپریل کو صبح ساڑھے دس بجے ہوگی ۔

نوٹس میں کہا گیاہے کہ کامیاب بولی دینے والے کو بولی کی کل رقم موقع پر ادائیگی کرنی ہوگی اور تمام نیلام شدہ مال اسی دن اٹھانا بھی ہوگا۔

کامکاب بولی دہندگان کو بولی کی کل اصل رقم کے علاوہ 10فیصد بطور ایڈوانس انکم ٹیکس بھی موقع پر ادا کرنا پڑیگا۔

موقع پر موجود نیلام کمیٹی کی قمرر کردہ کم از کم قیمت سے کم کسی بھی بولی کو قبول نہیں کیا جائیگا۔ دلچسپی رکھنے والے افراد سے کہا گیاہے کہ وہ اصل قومی شناختی کارڈ کے ہمراہ مقررہ تاریخ کو بوقت ساڑھے دس بجے دن نیلامی میں حصہ لینے کے لیے پہنچیں ۔ نیلام کی جانے والی اشیا کے  معائنے کے لیے بولی کے مقرر کردہ وقت سے ایک گھنٹہ قبل آنا ہوگا۔

یاد رہے ستمبر 2018میں پہلی بار وزیراعظم آفس کے زیر استعمال گاڑیوں کی نیلامی کفایت شعاری مہم کو مد نظر رکھ کر کی گئی تھی ۔

نیلامی کے پہلے دن وزیراعظم ہاوٴس اسلام آباد کے زیر استعمال بم پروف گاڑیوں سمیت 102 قیمتی گاڑیوں کو نیلامی  کے لیے پیش کیا تھا۔

نیلامی کے لیے رکھی گئی گاڑیوں میں 1994 سے 2016 ماڈل کی گاڑیاں شامل ہیں۔ 28 مرسڈیز، آٹھ بی ایم ڈبلیوز اور مختلف اقسام کی دیگر گاڑیاں نیلامی میں شامل تھیں۔

نیلامی کے دن وفاقی وزیراطلاعات فواد چودہری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب تک 70 گاڑیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ تمام گاڑیوں کو مارکیٹ سے زائد قیمت پر فروخت کیا گیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی نیلامی تین مراحل میں کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں 34 مقامی گاڑیوں کو نیلام کیا گیا، دوسرے مرحلے کی نیلامی میں امپورٹڈ گاڑیاں شامل کی گئیں۔

انتظامی افسر کے مطابق دوسرے مرحلے ميں 16 گاڑیوں کی نیلامی نہیں ہو سکی۔ نیلام نہ ہونے والی گاڑیوں میں مرسڈیز بینز اور دو پانچ ہزار سی سی بی ایم ڈبلیو جیپیں شامل ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس کے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا تھا کہ ٹیکس اور ڈیوٹی زیادہ ہونے کے باعث کچھ گاڑیوں کی نیلامی نہیں ہوئی، نیلام نہ ہونے والی گاڑیوں کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں