30

آصف زرداری کی ضمانت خارج کی جائے، نیب کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

نیب نےآصف زرداری کے خلاف بلٹ پروف گاڑیوں سے متعلق کیس میں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب جمع کرادیاہے۔ نیب کی طرف سے کہا گیاہے کہ آصف علی زرداری کسی ریلیف کے مستحق نہیں ہیں ان کی ضمانت خارج کی جائے۔

نیب نے اپنے جواب میں لکھا ہے کہ آصف زرداری نے گاڑیوں کی خریداری کے ذرائع آمدن نہیں بتائے۔گاڑیوں کی کسٹم ڈیوٹی اوررجسٹریشن چارجز کے حوالے سے بھی نہیں بتایاگیا۔آصف زرداری نہ تعاون کررہے ہیں نہ ہی سوالات کے جواب دے رہےہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی جانے والی انکوائری میں قانونی تقاضے پوری کررہے ہیں۔آصف زرداری نے نیب کا جواب دینے کی بجائے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاہے۔ آصف زرداری کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہےمسترد کی جائے۔

مبینہ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں بھی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر قومی احتساب بیورو نے اپنا جواب اسلام آبادہائیکورٹ میں گزشتہ روز جواب جمع کرایا۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرایا۔ نیب نے اپنے جواب میں لکھا کہ آصف زرداری نے درخواست ضمانت میں غلط بیانی کی ہے۔

نیب نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ آصف زرداری نے دیگر ملزمان کی ملی بھگت سے نیشنل بینک سے ڈیڑھ ارب کا قرض لیا۔

آصف زرداری نے اثرورسوخ استعمال کر کے نیشنل بینک سے قرض لیا۔ آصف زرداری نے دھوکہ دہی سے فرنٹ کمپنی پیرتھینون نامی کمپنی بھی بنائی۔

نیب نے استدعا کی ہے کہ پارک لین کمپنی کیس میں آصف زرداری کی ضمانت مسترد کی جائے،

نیب سپریم کورٹ کی ہدایت پر جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری طرف گزشتہ روز احتساب عدالت اسلام آباد میں جعلی بنک اکاؤنٹس میں شریک ملزم زین ملک بھی پیش ہوگئے۔

کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کی۔ زین ملک نے روسٹرم پرآکرحاضری لگائی اور رجسٹرڈ پر دستخط کیے ۔

عدالت نے زین ملک سمیت دیگر ملزمان کو آج طلب کررکھا تھا۔

16 اپریل کو آصف زرداری سمیت 30 شریک ملزمان احتساب عدالت پیش ہونگے۔

یاد رہے 8اپریل کو ہونے والی سماعت میں آصف زرداری اور فریال تالپورسمیت 24ملزمان کے خلاف مبینہ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی سماعت میں دو ملزم خواتین نے وعدہ معاف گواہ بننے کی استدعا کی تھی ۔ عدالت نے آصف زرداری کی حاضری سے استثنی کی استدعا مسترد کردی دی تھی

کرن اور نورین کی طرف سے عدالت میں وعدہ معاف گواہ بننے کی استدعا کی گئی ۔

ملزم خواتین نے کہاتھا کہ ہم وکیل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں۔

وکیل صفائی نے کہا یہ مضحکہ خیز ہے کہ ملزمان کی جانب سے وعدہ معاف گواہ بننے کی استدعا کی جائے۔

جج محمد ارشد نے ریمارکس دیے کہ چیرمین نیب کا اختیار ہے انہیں درخواست دیں۔

کرن اور نورین نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے چیرمین نیب کو بھی درخواست دے رکھی ہے۔

اس پر عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا آپ کیا کہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا چیک کروالیتے ہیں کہ ایسی کوئی درخواست آئی ہے یا نہیں؟

آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو حاضری سے استثنی کی استدعا کی۔

فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے کہاکیس کے بناکسی رکاوٹ ٹرائل کے لیے دونوں کو استثنی دیا جائے۔ یہ جوعدالت کے اطراف میں ماحول بنایا گیا ہے وہ آصف علی زرداری کی پیشی کی وجہ سے ہے۔

آصف زرداری کو حاضری سے استثنی دیں تو یہ سیکیورٹی ادارے بھی اپنا کام کریں۔

عدالت نے آصف زرداری کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت 16اپریل تک ملتوی کردی تھی۔

نیب کا چہرہ اور دامن انسانی خون سے داغدار ہے،ڈاکٹر نفیسہ شاہ

پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے نیب کی طرف سے جواب جمع کرائے جانے پر ردعمل بھی دیا ہے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ نیب عدالتوں میں غلط بیانی جبکہ میڈیا اور قوم کو گمراہ کرتا ہے ۔ بریگیڈیئر اسد منیر نے نیب کی بلیک میلنگ سے تنگ آ کر جان دی۔نیب کا چہرہ اور دامن انسانی خون سے داغدار ہے ۔نیب نے تاحال آصف علی زرداری کے خلاف کوئی ثبوت نہیں دیا۔نیب عمران خان کے اشارے پر حرکت میں آتا ہے،جھوٹے اور من گھڑت الزامات سے بلیک میل نہیں ہونگے۔نیب میں جرات نہیں کہ علیمہ خان کو پکڑے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں