31

معجزہ معراج النبی ﷺ

جب سے پیارے آقا حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان فرمایا تھا، لوگوں کو خدائے واحد کی عبادت کی طرف بلانا شروع فرمایا تھا، تب سے شرک و کفر کی فضائوں میں پروان چڑھنے والے لوگ آپ ﷺ کی جان کے دشمن ہو گئے تھے۔

حالانکہ آپ ﷺکی مبارک حیات کے ہر باب کا ہر ورق ان کے سامنے تھا۔ جو بیشک شبنم سے زیادہ پاکیزہ، پھول سے زیادہ شگفتہ، آفتاب و ماہتاب سے زیادہ روشن و چمکدار اور ظاہری و باطنی ہر قسم کے عیب و برائی سے پاک تھا، اسکے باوجود وہ آپ ﷺ کے فرمان کو جھٹلانے لگے۔

نبوت کی روشن نشانیاں دیکھ کر جب لاجواب ہو جاتے اور کچھ بن نہ پڑتا تو انہیں سحر و جادوگری قرار دے دیتے۔ ظالموں نے آپ ﷺ کی راہ میں کانٹے بچھائے، جسم نازنین پر پتھر برسائے، تکالیف و مصائب کے پہاڑ توڑ ڈالے اور طعن و تشنیع کا بازار خوب گرم کیا، ان تمام مظالم میں اس وقت اور اضافہ ہو گیا جب اعلانِ نبوت کے دسویں سال آپ ﷺکے چچا ابوطالب اور ان کے کچھ روز بعد اُم المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓکا انتقال ہوا۔

رحمت عالم، نور مجسم ﷺ نے ان تمام رکاوٹوں کے باوجود دعوتِ اسلام کو جاری رکھا۔ لوگوں کو کفر و شرک سے روکتے رہے۔ اس نازک دور میں جو کوئی بھی آپ ﷺ کی دعوتِ حق کو قبول کر کے مشرف بہ اسلام ہوتا، کفار کے جور و ستم کا نشانہ بن جاتا۔

بہرحال وقت رفتہ رفتہ گزرتا گیا اور ہمیشہ کی طرح یہ سال بھی اپنے اختتام کو پہنچا، پھر گیارہواں سال شروع ہوتا ہے، اس میں بھی طعن و تشنیع اور جور و ستم کا بازار اسی طرح گرم ہے۔ پیارے آقاﷺ تمام تر رکاوٹوں، پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود اعلائے کلمۃ الحق کیلئے مصروفِ عمل ہیں، کرتے کرتے رجب کا مہینہ آ جاتا ہے اور جب اس کی 27ویں شب ہوتی ہے تو اس مبارک رات میں اللہ عزوجل اپنے محبوب ﷺ کو وہ شرف عطا فرماتا ہے کہ نہ کسی کو ملا ہے نہ ملے گا۔

یہ وہ حیرت انگیز واقعہ تھا کہ سننے والے دَنگ رہ جاتے ہیں۔ عقل کو دولت کل سمجھنے والوں کے کفر و انکار میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ کامل الایمان خوش نصیبوں کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت اس کا مختصر ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ:’’پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا، مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی ہے کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے‘‘۔ (پ۱۵، بنی اسرائیل:۱)

بعثت کے گیارہویں سال ہجرت سے دو سال پہلے، 27رجب المرجب بروز پیر کی سہانی اور نور بھری رات ہے اور پیکر انوار، تمام نبیوں کے سردار حضور نبی کریم ﷺ نمازِ عشاء ادا فرمانے کے بعد آرام فرما ہیں کہ دولت خانہ اقدس کی مبارک چھت کھلی، حضرت جبریلؑ حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کو حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے مسجد حرام میں لا کر حطیم کعبہ میں لٹا دیا۔ وہاں پر آپ ﷺ کی بارگاہ میں سواری کیلئے گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک سفید جانور حاضر کیا گیا جسے براق کہا جاتا ہے، اس پر زین کسی ہوئی تھی، لگام پڑی ہوئی تھی اور اس کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ تاحد نگاہ (جہاں تک نظر پہنچتی) اپنا قدم رکھتا۔

پھر حضورنبی کریم ﷺ براق پر سوار ہوئے۔ اس نورانی سفر میں حضرت جبریلؑ بھی ساتھ تھے۔ آپ ﷺ عجائبات قدرت کو ملاحظہ کرتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اور مسجد اقصیٰ میں بابِ یمانی سے داخل ہو گئے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ عالی کے اظہار کیلئے بیت المقدس میں تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو جمع کیا گیا تھا، جب آپ ﷺ یہاں تشریف لائے تو ان سب حضرات نے آپ ﷺ کو دیکھ کر خوش آمدید کہا اور نماز کے وقت سب انبیاؑء نے آپ ﷺ کو امامت کیلئے آگے کیا۔

بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہاں آپ ﷺ کے پاس دودھ اور شراب کے دو پیالے لائے گئے، آپ ﷺ نے انہیں ملاحظہ فرمایا، پھر دُودھ کا پیالہ قبول فرمایا، اس پر حضرت جبریل کہنے لگے: ’’تمام تعریفیں اللہ عزوجل کیلئے ہیں جس نے آپؐ کی فطرت کی جانب رہنمائی فرمائی۔ اگر آپؐ شراب کاپیالہ قبول فرماتے تو آپؐ کی اُمت گمراہ ہو جاتی‘‘۔

بیت المقدس کے معاملات سے فارغ ہو کر پیارے نبی ﷺ نے آسمان کی طرف سفر شروع فرمایا اور ہر بلندی کو پست فرماتے ہوئے تیزی سے آسمان کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ آن کی آن میں پہلا آسمان آ گیا، حضرت جبریلؑ نے دروازہ کھلوانا چاہا، پوچھا گیا: کون ہے؟ حضرت جبریلؑ نے فرمایا، جبریل ہوں، پوچھا گیا: آپؑ کیساتھ کون ہیں؟ جواب دیا: محمدمصطفی ﷺ۔پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا، ہاں۔ اس پر کہا گیا، مرحبا، کیا ہی اچھا آنیوالا آیا ہے۔ پھر دروازہ کھول دیا۔

پہلے آسمان پر آپ ﷺ کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ دوسرے آسمان پر آپ ﷺ کی ملاقات حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ سے ہوئی۔ تیسرے آسمان پر آپ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف علیہ السلام سے ہوئی، چوتھے پر حضرت ادریسؑ، پانچویں پر حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ان سب انبیاء کرامؑ نے آپ ﷺ کو خوش آمدید کہا۔ پھر حضور نبی کریم ﷺ ساتویں آسمان پر پہنچے جہاں پر حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ سے ملاقات ہوئی جو بیت المعمور سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ (بیت المعمور فرشتوں کا قبلہ ہے، کعبہ معظمہ کے مقابل ساتویں آسمان کے اوپر ہے، بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے وہاں فرشتوں کو نماز پڑھائی جیسے بیت المقدس میں نبیوں کو پڑھائی تھی)۔

پھر حضور نبی کریم ﷺ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔ یہ ایک نورانی بیری کا درخت ہے جس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر ہیں، یہاں پہنچ کر حضرت جبریلؑ ٹھہر گئے اور آگے جانے سے معذرت خواہ ہوئے۔ پھر آپ ﷺ اکیلے آگے بڑھے اور بلندی کی طرف سفر فرماتے ہوئے ایک مقام پر تشریف لائے جسے مستویٰ کہا جاتا ہے۔ پھر مستویٰ سے آگے بڑھے تو عرش آیا، آپ ﷺ اس سے بھی اوپر تشریف لائے اور پھر وہاں پہنچے جہاں خود ’’کہاں‘‘ اور ’’کب‘‘ بھی ختم ہو چکے تھے کیونکہ یہ الفاظ جگہ اور زمانے کیلئے بولے جاتے ہیں اور جہاں ہمارے حضور انور ﷺ رونق افروز ہوئے، وہاں جگہ تھی نہ زمانہ، اسی وجہ سے اسے لامکاں کہا جاتا ہے۔ یہاں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو وہ قربِ خاص عطا فرمایا کہ نہ کسی کو ملا نہ ملے گا۔

حدیث شریف میں اسکے بیان کیلئے ’’قَابَ قَوْسَیْن‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جنہیں اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب انتہائی قرب اور نزدیکی بتانا مقصود ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے بیداری کی حالت میں اپنے پیارے رب کا دیدار کیا کہ پردہ تھا نہ کوئی حجاب، زمانہ تھا نہ کوئی مکان، فرشتہ تھا نہ کوئی انسان اور بے واسطہ کلام کا شرف بھی حاصل کیا۔

یہاں پر اللہ رب العزت نے حضور نبی کریم ﷺ کو ہر دن رات 50نمازوں کا تحفہ عطا فرمایا۔ واپس آتے ہوئے جب آپ ﷺ حضرت موسیٰؑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ اللہ عزوجل نے اُمت پر کیا فرض فرمایا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 50 نمازیں۔ اس پر حضرت موسیٰ ؑنے فرمایا ’’واپس اپنے رب کے پاس جائیے اور کمی کا سوال کیجئے کیونکہ امت سے یہ نہیں ہو سکے گا‘‘۔

چنانچہ آپ ﷺ واپس گئے‘ اللہ پاک نے 5 نمازیں کم کر دیں‘ جو گھٹتے گھٹتے 5نمازیں رہ گئیں۔ حضرت موسیٰؑ نے اور کمی کیلئے کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں اپنے رب کے پاس اتنی بار گیا ہوں کہ اب مجھے حیا آتی ہے‘‘۔ پھر آپ ﷺ کو جنت اور جہنم کا معائنہ بھی کرایا گیا۔

یہ اللہ عزوجل کی قدرت ہے کہ اس نے رات کے مختصر سے حصے میں اپنے محبوب بندے ﷺ کو بیت المقدس اور ساتویں آسمان نیز عرش و کرسی سے بھی اوپر لامکاں کی سیر کرائی۔ یاد رکھئے! اللہ عزوجل قادرِ مطلق ہے، وہ ہر شے پر قادر ہے، یہ زمین و آسمان، یہ پہاڑ و سمندر، چاند و سورج، یہ فاصلے اور یہ سفر کی منزلیں سب کچھ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے، وہ جس کیلئے چاہے فاصلے سمیٹ دے اور جس کیلئے چاہے بڑھا دے، عقلیں اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔

رجب المرجب کی نہر:۔ حضرت سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں ایک نہر ہے جسے ’’رجب‘‘ کہا جاتا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو جو کوئی رجب کا ایک روزہ رکھے تو اللہ عزوجل اسے اس نہر سے سیراب کریگا‘‘۔

جنت کا محل: ۔ حضرت سیدنا ابوقلابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’رجب کے روزہ داروں کیلئے جنت میں ایک محل ہے‘‘۔

ستائیسویں شب کی فضیلت:۔ رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے، جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سی ایک سورت اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھے اور بارہ رکعت پوری ہونے پر سلام پھیرے، اس کے بعد 100 بار یہ پڑھے: ’’سُبْحٰنَ اللّٰہ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَر‘‘، استغفار سو بار، درود شریف سو بار پڑھے اور اپنی دُنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دُعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے سوائے اس دُعا کے جو گناہ کیلئے ہو۔اس دعا کا بڑا ثواب ملتا ہے۔

ستائیسویں رجب کے روزے کی فضیلت:۔ حضرت امام احمد رضا خانؒ فرماتے ہیں کہ ’’فوائد ہناد‘‘ میں حضرت سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف الرحیم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’ستائیس رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں