533

پاکستان کا روشن مستقبل تاریک ہونے لگا

( ڈاکٹر ابرار ) اپنے ملک میں در بدر بیرون ملک جا کر ایم بی بی ایس کی ڈگری لیکر آنے والے ڈاکٹرز پریشان حال ان کے لئیے پاکستان میں واپس آکر کام کرنے میں روز بروز مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں

انکو کی سالوں سے امتحان کے شیڈول کے لیے احتجاج کرنا پڑتا اور پی ایم ڈی سی امتحان کا شیڈول جاری کرتی ہے

اور ان سے پاکستان میں رجسٹریشن کے لیے جو امتحان لیا جاتا ہے وہ ایف سی پی ایس سے بھی مشکل ترین بنایا جاتا ہے تاکہ کم از کم فارن ڈاکٹرز کع سسٹم میں شامل کیا جا سکے اور یہ امتحان پاس کرنے کے بعد انکو پرووزنل آر ایم پی کے لئیے کی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے

اور جب یہ مل جاتی ہے تو پھر انکو ہاوس جاب کے لیے ہر ہسپتال کے دھکے کھانے پڑتے ہیں اور سفارش دھونڈنی پڑتی ہے

پھر ھاوس جاب کے حصول کے بعد جب یہ کام پر جاتے ہیں تو ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ انکو ھاوس جاب کا کوئی وظیفہ مقرر نہیں کیا جاتا اور ایک سال بے روزگار گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے

ایک طرف یہ ہفتے میں 70 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں اور اپنا پیٹ پالنے کے لیے بہت سے فارن ڈاکٹرز کریم یا ابر کی گاڑی چلا کر گزارا کرتے ہیں ہماری حکام بالا سے درخواست ہے کہ فارن میڈیکل گریجویٹس کے مسائل کا فوری حل نکالا جائے

اور اپنے ملک کی کریم کو فاقوں پر مجبور نہ کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں