42

آئی ایس آئی کے سابق افسر کی خود کشی

پاکستان کے اہم ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق افسر اور بعد میں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے منسلک سابق بریگیڈئیر اسد منیر نے اسلام آباد میں خود کشی کر لی ہے۔

اسد منیر کا ایک خط سوشل میڈیا پر شئیر کیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے ان کے خلاف کی جانے والی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘میں اس لیے خود کشی کر رہا ہوں تاکہ میں ہتھکڑیاں لگانے اور میڈیا کے سامنے بےعزت ہونے سے بچ سکوں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نیب افسران کے رویے کا نوٹس لیں۔’

اسد منیر کے خاندانی ذرائع نے ان کی خود کشی کی تصدیق کی ہے جبکہ پولیس ذرائع نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا۔

اسد منیر کی موت کی خبر سب سے پہلے ان کے بھائی خالد منیر نے صبح کو ٹویٹ کے ذریعے کی۔ بعد میں اسد منیر کی صاحبزادی اور سماجی کارکن مینا گبینہ نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے جنازے کا مقام اور وقت لکھا مگر موت کی وجہ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔

اسد منیر کی صاحبزادی اور سماجی کارکن مینا گبینہ کی ٹویٹ

اسد منیر ماضی میں آئی ایس آئی کے علاوہ ملٹری انٹیلیجنس سے بھی منسلک تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ٹی وی پر بطور تجزیہ کار فرائض سر انجام دیتے تھے اور کالم نویس بھی تھے۔

اس کے علاوہ اسد منیر ٹوئٹر بہت باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے اور اکثر اپنے تجزیے لکھتے تھے۔

اسد منیر کی موت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری نے تعزیتی کلمات ٹویٹ کیے لیکن حکومت یا نیب کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

مبینہ طور پر اسد منیر کی جانب سے لکھا گیا خط جس میں انھوں نے نیب کو اپنی خود کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے
واضح رہے کہ ایک روز قبل نیب نے اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق اسد منیر سمیت دیگر افراد کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس ریفرنس میں اسد منیر پر اور دیگر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایک پلاٹ بحال کر دیا تھا۔

اسد منیر کے نام سے جاری کیے گئے خط میں اس کیس کی تفصیلات بتائی گئیں اور اپنی صفائی میں انھوں نے لکھا کہ ‘میں نے صرف پلاٹ کو بحال کرنے کی تجویز دی تھی۔ میرے خلاف چھ سال سے کوئی کیس نہیں تھا مگر اپریل 2017 سے میرے خلاف کاروائی ہو رہی ہے اور میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔’

مبینہ طور پر اسد منیر کی جانب سے لکھے گئے اس خط کے آخر میں تحریر کیا گیا ہے کہ ‘میں اپنی جان اس لیے دے رہا ہوں تاکہ چیف جسٹس نظام میں مثبت تبدیلی لائیں اور احتساب کے نام پر نااہل لوگ عام عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں