24

محکمہ سوشل ویلفیئر کی رجسٹرڈ تنظیم میں بے ضابطگیاں

خانقاہ ڈ وگراں( احمد ناز . ڈ پٹی بیورو چیف ) محکمہ سوشل ویلفیئر کی طرف سے رجسٹرڈ تنظیم کی زیر سرپرستی چلنے والے دو ہائی سکولوں میں مرکزی عہدیداروں نے اپنے عزیز واقارب کو اعلیٰ سیٹوں پرتعینات کرکے تنخواہوں کی ادائیگی کیساتھ ساتھ فنڈز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے

یہ انکشاف اس وقت ہوا جب مرکزی عہدیداروں نے بے ضابطگیوں کو تحفظ دینے کیلئے متعدد عہدیداروں کو نکال کر ان کی جگہ پر بھی اپنے عزیز واقارب کو عہدیداران بنالیا سید وقار سعید شاہ ودیگر کی طرف دے دی جانیوالی تحریری درخواست میں بتایا گیا ہے کہ محمد ہارون وغیرہ نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت انجمن رفاع ملت کے نام پر ایک تنظیم رجسٹر ڈ کروا کر حکومت کی طرف سے چارکینال سے زائد اراضی حاصل کرکے وہاں پر سرسید گرلز اور بوائز ہائی سکولز قائم کئے

اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے غریب ،نادارخاندانوں کے بچوں کو فری تعلیم کے حصول کے نام پر فنڈنگ بھی حاصل کی جارہی ہے اور کئی دہائیوں سے یہ سیٹ اپ چلائے جارہے ہیں اور اندرون خاتہ محکمہ سوشل ویلفیئر آفیسر ان کی ملی بھگت سے کاغذی کارروائیاں بھی چل رہتی انجمن رفاع ملت تنظیم کے جنرل سیکرٹری محمد ہارون کی طرف سے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تنظیم کے عہدیداروں کو تبدیل کرکے انکی جگہ پر اپنے عزیز واقارب کو عہدیداران بنانے پر نکالنے جانیوالے عہدیداروں نے مذکورہ سکول کے آڈٹ کی درخواست اور محکمہ سوشل ویلفیئر آفیسر فاروق آباد تنویر طارق کیخلاف کارروائی کا مطالبے پر بے ضابطگیوں کے انکشافات سامنے آگئے جس پر شہری حلقے سراپا احتجاج بن گئے انجمن رفاع ملت کے زیر اہتمام پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے فنڈز بھی حاصل کئے جاتے رہے مگر اس کے باوجود 1500 سے 2000 ہزا ر روپے تک طلباء وطالبات سے فیس بھی وصول کی جاتی رہی درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے صوبائی وزیر اجمل چیمہ سرسید سکول فاروق آباد پہنچ گئے مگر وہاں پر کارروائی اور آڈٹ کی بجائے سوشل ویلفیئر آفیسرز کو ہدایت کی کہ کارروائی نہیں بلکہ دونوں فریقین کے مابین صلح کروا کر درخواست کو داخل دفتر کردیا جائے جس پر محکمہ کے آفیسران نے بھی ’’مٹی ڈالو‘‘ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بے ضابطگیوں کو جاری رکھنے کی مہر ثبت کردی

جبکہ دوسری طرف سید وقار سعید شاہ کی طرف سے دی جانیوالی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری عنبرین راجہ نے سوشل ویلفیئر آفیسر فاروق آباد تنویر طارق کو تبدیل کرنے کے احکامات جاری کئے مگرسوشل ویلفیئر آفیسر نے چارج چھوڑنے کی بجائے سابق ڈی او سوشل ویلفیئر حنیف گجر کی جعلی مہریں اوردستخط کرکے تمام تر کاغذی کارروائی پوری کرکے کئی ہفتے گزرنے کے باوجود صوبائی وزیر کی آشیر باد پرچارج چھوڑنے کی بجائے فاروق آباد ضلع شیخوپورہ میں ہی کام کررہا ہے

درخواست میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سکولوں میں تعینات عملہ بھی عہدیداران کے عزیز واقارب ہیں جو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کررہے ہیں وقار سعید شاہ ودیگرنے وزیراعظم پاکستان ، وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے این جی او کی آڑ میں ہونیوالی لوٹ مار کا مکمل طور پر آڈٹ کروایا جائے

اورفراڈ کے مرتکب افراد کیخلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے رابطہ کرنے پر محمد ہارون نے بتایا کہ کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی نہیں کی گئی غیر فعال لوگوں کے عہدے تبدیل کرنے پر وہ الزام تراشی پر اتر آئے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں