24

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس

خانقاہ ڈ وگراں( احمد ناز . ڈ پٹی بیورو چیف ) سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں لاپتہ ہونے والے حافظ آباد کے رہائشی محمد وکیل کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بھارتی عدالت ہمارا موقف سنے بغیر سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ کرنا چاہتی ،

ہم نے اپنا موقف بھی عدالت میں پیش کرنے کے لئے درخواست ارسال کر دی ہے۔پاکستانی حکومت اس کیس مین انصاف کے لئے ہماری مدد کرے اور سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کو بھی عالمی عدالت انصاف میں سنا جائے ۔

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں لاپتہ ہونے والے حافظ آباد کے رہائشی محمد وکیل کی بیٹی راحیلہ وکیل ، بیٹوں اور بیوی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تیرہ سال سے انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا

اب بھارتی عدالت ہمارا موقف سنے بغیر اس کیس کا فیصلہ کرنا چاہتی ہے ۔محمد وکیل کی بیٹی راحیلہ وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں بھارتی عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس یا ثمن وصول نہیں ہوا۔

بھارتی حکومت ہمیں ویزا دے تاکہ میں بھارت جا کر عدالت میں حقائق بیان کر سکوں۔انکا کہنا تھا کہ 2012مین بھارتی حکومت نے مجھے پندرہ لاکھ روپے کی آفر کی تھی اور کہا تھا کہ کوئی ایک ڈیڈباڈی لے جاؤ لیکن میں نے انکی یہ آفر ٹھکرا تے ہوئے کہا تھا آپ مجھ سے تیس لکاھ لے لیں لیکن میرا والد مجھے دے دیں

راحیلہ وکیل کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی جاسوس کلبھوشن کے کیس کی طرح سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس بھی عالمی عدالت انصاف میں سنا جائے ۔محمد وکیل کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اس کیس میں انصاف کے لئے ہماری مدد کرے ،ہمارے والد زندہ اور بھارتی قید میں ہیں

راحیلہ وکیل ،اسکے بھائیوں اور چچا کا بھارتی حکومت نے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروا جو کسی ڈیڈباڈی کے ساتھ میچ نہیں ہوئے ۔متاثرہ خاندان نے حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیرہ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک انہیں انصاف نہیں مل سکا ۔سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں سفارتی سطھ پر ہماری مدد کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں