18

موسمیاتی تبدیلیاں اور ان کے اثرات دہشت گردی کے بعد بڑا خطرہ ہیں، وزیر ماحولیات پنجاب

صوبائی وزیرماحولیات پنجاب محمد رضوان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اوران کے اثرات دہشت گردی کے بعد سب سے بڑا خطرہ ہیں،وزیراعظم کے ویژن کے مطابق عوام میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغازکردیاگیا ہے، اسے گھرگھر تک پہنچائیں گے۔

کونسل آف پاکستان نیوزپیپرزایڈیٹرز(سی پی این ای)کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ ’’موسمیاتی تبدیلیوں پرآگاہی سیمینار‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرماحولیات محمد رضوان نے کہا ہے کہ حکومت موسمیاتی تبدیلیوں اور ان سے ممکنہ تباہ کاریوںکے خطرے سے پوری طرح آگاہ ہے، وزیراعظم کے ویژن کے مطابق پنجاب حکومت اپنے تمام وسائل بروئے کارلانے کے ساتھ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیاں اوران کے اثرات دہشت گردی کے بعد سب سے بڑا خطرہ ہیں، وزیراعظم کے ویژن کیمطابق عوام میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے،اسے گھر گھر تک پہنچائیں گے۔
صوبائی وزیرکاکہنا تھاکہ ان اقدام کیلیے میڈیا کا کردارسب سے اہم ہے جس کیلیے سی پی این ای کے جانب سے کی جانے والی کوششیں قابل ستائش ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں اورانکے اثرات سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے میڈیا بطور ریاست کے چوتھا ستون اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔

صوبائی وزیرکا کہنا تھا کہ حکومت آلودگی میں کمی کرنے کے حوالے سے اقدامات کر رہی ہے تاہم ان کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے،حکومت سمجھتی ہے کہ اسکولز، کالجز اور یونیورسیٹوں کے ساتھ سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس اہم مسئلہ کو حل کرنی کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہپوئے سیکرٹری جنرل سی پی این ای ڈاکٹر جبارخٹک نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دنیا کے دس ممالک میں شامل ہے جبکہ ماحول کوآلودہ کرنے میں اسکا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سی پی این ای، صحافتی شعبے سے منسلک افراد کی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق استعداد کاری میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ عوام میں شعور پیدا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرسکے۔ اس مقصدکے لیے سی پی این ای نے گائیڈ بکس تیارکی ہیں جن سے نہ صرف صافتی حلقے، ماہرین ماحولیات اورقانون ساز ادارے بھی مستفید ہوںگے۔

اس موقع پر ریفلیٹ گلوبل کے نمائندے شہریار وڑائچ نے موسمیاتی تبدیلی اور ان کے اثرات پر تحقیقاتی مقالہ پیش کیا۔ اس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اس اہم مسئلہ کے لیے ماحولیاتی تبدیلی پرقومی پالیسی مرتب کرنے کے لیے وزارت قائم کی ہے، موسمیاتی تبدیلی ایکٹ نافذ کیا گیا ہے،وزیراعظم گرین پاکستان پرگرام اور واٹر پالیسی کا آغاز کیا ہے تاہم بین الاقوامی آرگنائزیشن کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ان اقدامات کے باوجود پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یو این ڈی پی کے نمائندے میاں آصف شاہ نے اپنے ادارے کی جانب سے پاکستانی حکومت اور دوسرے اداروں کے ساتھ مشترکہ اقدامات کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔

اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اس وقت 26 مختلف فنڈز قائم ہیں جو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مالیاتی مدد فراہم کرتے ہیں، پاکستان اپنے مالیاتی نظام میں شفافیت اور عملدرآمدکے طریقہ کار کو مزید بہتر بنا کر ان فنڈز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سیمینار میں سی پی این ای کے پراجیکٹ کوآرڈینیٹرعبدالرحیم موسوی نے موسمیاتی تبدیلی کے تحت شروع کئے گئے سی پی این ای کے مختلف پراجیکٹس اور ان کے ممکنہ دائرہ کار پر شرکاکوآگاہی فراہم کی۔

سی پی این ای پنجاب کے نائب صدر ایاز خان نے اس بات پر زور دیا کہ عوام میں ہرسطح پر ماحولیاتی آلودگی سی ہونے والے نقصانات سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرداس مسئلہ سے نبرد آزما ہونے میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں