15

جسٹس اعجاز الاحسن کے ڈی جی ایل ڈی اے سے متعلق کیس میں ریمارکس

سپریم کورٹ میں ڈی جی ایل ڈی اے کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آپ کی نظرثانی درخواست غلط بیانی سے بھری پڑی ہے،کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کو سنا ہی نہیں گیا تھا،چیف سیکرٹری اور وزیرہاو¿سنگ کے دستخط موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے ڈی جی ایل ڈی اے کو عہدے سے ہٹانے کا معاملہ پر پنجاب حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو عہدے سے نہ ہٹانے کا حکم دیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی نظرثانی درخواست غلط بیانی سے بھری پڑی ہے،کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کو سنا ہی نہیں گیا تھاجبکہ چیف سیکرٹری اور وزیرہاؤسنگ کے دستخط موجود ہیں۔

جسٹس فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیا حکومت عہدے پر اپنا آدمی لگانا چاہتی ہے؟یہ کیس سپریم کورٹ تک آیا کیسے؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالت نے معاملے پر سوموٹو لیا تھا۔

جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام ریکارڈ ساتھ لگائیں اور تیاری کرکے آئیں،عدالت نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں