21

ججز روایتی سوچ میں پڑے ہوئے ہیں، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ امیر اور غریب آدمی کے لئے الگ الگ انصاف نہیں ہونا چاہیے جب کہ ججز روایتی سوچ میں پڑے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور جو حکومت یہ سمجھے کہ عدالت کےبغیر اصلاحات آسکتی ہیں تو ایسا ممکن نہیں،عدالتی نظام میں اصلاح ہو گی تو عام آدمی کو فائدہ ہوگا، اسلام آباد بار میں بھی لوگ بڑے عہدوں پر رہے لیکن وہ اپنے گھروں کو ہی خوبصورت بناتے رہے بار کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی، پاکستان کے حالات بہتری کی جانب آرہے ہیں، پاکستان کے ہر طبقے نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنا خون دیا، وکلا نے بھی دہشت گردی کی جنگ میں قربانیاں دیں، ہال کا نام شہدا کے نام پر رکھنے پر وکلا کو خراج تحسین پیش کرتاہوں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے ملک میں امیر کے لیے جیل فائیو اسٹار ہوٹل جب کہ غریب کے لیے گھر بھی جیل ہے، وزیراعظم ہاؤس کو اتنی بڑی جگہ پر بنا دیا گیا ہے، 11سو کنال میں بنے وزیراعظم ہاؤس کو کم کرنے کی جب بات کی جاتی ہے تو اعتراض کیا جاتا ہے، امیر اور غریب آدمی کے لئے الگ الگ انصاف نہیں ہونا چاہیے، ججز بھی روایتی سوچ میں پڑے ہوئے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہم میں بھی خامیاں ہوں گی لیکن وزیراعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم نیک نیت آدمی ہیں،ان کادل عوام کے لئے دھڑکتاہے، اس وقت ملک میں عمران خان سے بہتر شخص ہمیں مل نہیں سکتا، ہم تمام بحرانوں پر قابو پائیں گے، تحریک انصاف کے 5 سال مکمل ہونے پر ملک میں واضح فرق نظر آئے گا۔ اب تک تحریک انصاف کی حکومت کاایک بھی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ خزانہ بھی حیران ہو گا کہ سات ماہ میں کسی نے لوٹا ہی نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم کرپشن روکنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے، انتقامی سیاست کی بات کرنے والے محض الزام تراشیاں کر رہے ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر مقدمات بنائے۔ بلاول کہتے ہیں کہ جیل بھرو تحریک شروع کررہے ہیں، سندھ میں تو تحریک کی بھی ضرورت نہیں ویسے ہی جیل بھرنے والی ہے۔ لگتا ہے سندھ کی قیادت خود ہی جیلوں میں آ رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں