39

تعلیمی اداروں میں ڈگریاں بیچی جارہی ہیں،ایک نسل تباہ ہوچکی ہے، دوسری لائن میں لگی ہوئی ہے : سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی جامعات کی بھرمار اور ڈگریوں سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل اور ایچ ای سی سے 15 روز میں جواب طلب کرلیا،

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تعلیمی سیکٹرتباہ ہورہا ہے،جامعات کی مشروم گروتھ ہورہی ہے، تعلیمی اداروں میں ڈگریاں بیچی جارہی ہیں، نسلیں تباہ ہورہی ہیں،ایک نسل تباہ ہوچکی ہے، دوسری لائن میں لگی ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان میں نجی جامعات کی بھرمار اور ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھتی،

تعلیمی سیکٹرتباہ ہورہا ہے،جامعات کی مشروم گروتھ ہورہی ہے،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تعلیمی اداروں ڈگریاں بیچی جارہی ہیں، نسلیں تباہ ہورہی ہیں،ایک نسل تباہ ہوچکی ہے، دوسری لائن میں لگی ہوئی ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ عدالتوں میں لانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،نیب اور ایف آئی اے بھی کیا کرلیں گی،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایچ ای سی سے 15 روزمیں جواب طلب کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں