36

جامعات علم کے فروغ کا محور ہیں، معروضی تحقیقات کو آگے بڑھانا ان کا اولین فرض ہے: صدر عارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ جامعات کو اعلیٰ تعلیم کو ملک کے صنعتی اور زرعی شعبوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہیے، تمام چانسلرز اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنا فعال کردار ادا کریں۔

انہوں نے یہ بات منگل کو یہاں ایوان صدر میں چانسلرز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود، پنجاب کے گورنر/صوبے میں یونیورسٹیوں کے چانسلر چوہدری محمد سرور، سندھ کے گورنر/صوبے میں یونیورسٹیوں کے چانسلر عمران اسماعیل، گورنر خیبرپختونخوا/صوبے میں یونیورسٹیوں کے چانسلر شاہ فرمان، گورنر بلوچستان اور صوبے میں یونیورسٹیوں کے چانسلر جسٹس (ر) امان اللہ خان یاسین زئی اور آزاد جموں و کشمیر کے صدر اور آزاد کشمیر میں یونیورسٹیوں کے چانسلر سردار مسعود خان نے کانفرنس میں شرکت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ جامعات علم کے فروغ کا محور ہوتی ہیں لہذا انہیں معروضی تحقیق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے علم کو منتقل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو تدریسی طور پر متنوع شعبہ جات میں علم کی تخلیق میں معاونت کرنی چاہیے۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں پاکستان کو شامل کرنے کے لئے علمی سرمائے کے فروغ اور تکنیکی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی یونیورسٹیوں کو شہرت یافتہ غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ اپنے بین الاقوامی رابطوں کو فروغ اور تقویت دینی چاہیے تاکہ ان کی مہارت اور تجربات سے خاطر خواہ استفادہ کیا جا سکے۔ صدر نے ملک کے تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت، نینو ٹیکنالوجی اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے نئے موضوعات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹ اور صحافت میں تربیت پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے اور پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنے کے لئے یونیورسٹیوں کو بالخصوص علم پر مبنی معیشت اور اعلیٰ معیاری تعلیم تک رسائی، کمیونٹی رابطوں اور معاشرے کو ثمرات سے مستفید کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ جدت کی حامل تحقیق کے لئے سہولیات کی فراہمی اور طالب علموں میں کاروبار کرنے کے کلچر کو فروغ دینے میں بھی مدد کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں