52

دہشت گردی میں ملوث جرمنوں کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی

وفاقی جرمن حکومت نے انسداد دہشت گردی کے لیے مزید سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اگر دوہری شہریت رکھنے والا کوئی باشندہ دہشت گردی میں ملوث پایا گیا، تو اس کی جرمن شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔

جرمن دارالحکومت برلن سے پیر چار مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ملک کے تین اہم ذرائع ابلاغ نے اتوار تین مارچ کو رات گئے بتایا کہ چانسلر انگیلا میرکل کی قیادت میں موجودہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے مابین ایسے عسکریت پسندوں کی جرمن شہریت منسوخ کرنے سے متعلق اتفاق رائے ہو گیا ہے، جو دہشت گردی میں ملوث پائے جائیں گے۔

ڈی پی اے کے مطابق اس نئے مجوزہ قانون کا اطلاق جرمنی سے تعلق رکھنے والے ان مبینہ دہشت گردوں پر نہیں ہو گا، جو خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کی طرف سے جنگجوؤں کے طور پر سرگرم رہے ہیں اور اس وقت شام ہی میں زیر حراست ہیں۔

جرمن اخبار ’زُوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ اور دو نشریاتی اداروں ڈبلیو ڈی آر اور این ڈی آر کی طرف سے نشر کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس نئے قانون کا اطلاق ماضی کی کسی تاریخ کی بجائے اب سے ہو گا اور دہشت گردی کے مرتکب پائے گئے کسی بھی مجرم کی جرمن شہریت کی منسوخی کے لیے لازمی ہو گا کہ اس باشندے کی عمر 18 سال سے زائد ہو اور وہ جرمنی کے علاوہ کسی دوسرے ملک کا شہری بھی ہو۔

حکومتی جماعتوں میں اتفاق رائے

جرمن میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس سلسلے میں چانسلر میرکل کی پارٹی سی ڈی یو کی ہم خیال قدامت پسند جماعت سی ایس یو سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر اور مخلوط حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی یا ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر انصاف کاتارینا بارلی کے مابین اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
ماضی میں جرمنی کی انہی دونوں وفاقی وزارتوں کے مابین اختلاف رائےکی وجہ سے اس مجوزہ قانون پر عدم اتفاق کے باعث عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔ اب لیکن حکومتی جماعتوں کے مابین اس بارے میں مفاہمت ہو جانے کے بعد انسداد دہشت گردی سے متعلق یہ نئے اقدامات فوری طور پر مؤثر ہو جائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا مطالبہ

مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے اور شام میں موجود جہادیوں کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل امریکا اور اس کے یورپی اتحادی ممالک کے مابین کافی کھچاؤ بھی پیدا ہو گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ مطالبہ بھی کر دیا تھا کہ یورپی ممالک اپنے ان 800 سے زائد عسکریت پسند شہریوں کو واپس اپنے ہاں قبول کریں، جو اب تک شام میں داعش کی طرف سے لڑتے ہوئے گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل شام میں داعش کے خلاف لڑنے والی کردوں کی ملیشیا سیریئن ڈیموکریٹک فورسز یا ایس ڈی ایف کی طرف سے بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ داعش کے گرفتار شدہ یورپی جہادیوں کی وجہ سے اسے اتنے زیادہ بوجھ کا سامنا ہے، جس کی یہ ملیشیا اکیلے متحمل نہیں ہو سکتی۔

یورپی ممالک کے خدشات

دوسری طرف کئی یورپی ممالک کی حکومتیں اب تک ان شام میں زیر حراست جہادیوں کو اپنے شہریوں کے طور پر واپس قبول کرنے میں اس وجہ سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں کہ ان شدت پسندوں کے جرائم کو یورپی عدالتوں میں ثابت کرنا شاید بہت مشکل ہو گا اور یوں یہ جہادی عناصر اپنے اپنے وطن واپسی کے بعد رہا کر دیے جائیں گے، جو مجموعی سلامتی کے حوالے سے ان ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں