47

ہواوے کمپنی کی ایگزیکٹو افسر کو امریکا کے حوالے کرنے کی تیاری

کینیڈا نے ہواوے کمپنی کی زیر حراست ایگزیکٹو افسر کو امریکا کے حوالے کرنے کی تیاری شروع کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق کینیڈا کے محکمہ انصاف کے حکام نے ہواوے کمپنی کی چیف فنانشل افسر (سی ایف او) مینگ وانژو کی حوالگی سے متعلق امور نمٹانے کے لیے باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔

محکمہ انصاف کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’مینگ وانژو کی حوالگی کا فیصلہ بھرپور مشاورت اور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا، تاہم اس مد میں ان کے خلاف ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں جو جج کے سامنے پیش کیے جائیں گے‘۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ کینیڈا کے اٹارنی جنرل، مینگ وانژو کی حوالگی سے متعلق حتمی بیان دیں گے۔

کینیڈا کی عدالت میں حوالگی سے متعلق سماعت 6 مارچ کو ہوگی۔

خیال رہے کہ ہواوے کی سی ایف اومینگ وانژو کو کینڈین حکام نے نومبر کے آخر میں برٹش کولمبیا کے شہر وینکوور کے ایئر پورٹ سے امریکی حکومت کی درخواست پر گرفتار کیا تھا۔

کینیڈین حکام نے 7 روز بعد مینگ وانژو کی گرفتاری کو ظاہر کیا تھا۔

8 دسمبر کو امریکی حکام نے الزام لگایا تھا کہ مینگ وانژو نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔

یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ مینگ وانژو نے کس طرح خلاف ورزی کی، تاہم 7 دسمبر کو انہیں کینیڈا کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے خلاف امریکا کے ساتھ دھوکے کے الزام کے تحت سماعت ہوئی۔

تین دن تک سماعت جاری رہنے کے بعد عدالت نے مینگ وانژو کو ایک کروڑ کینیڈین ڈالر کی ضمانت پر رہا کرتے ہوئے انہیں وینکوور میں رہنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت میں پہلی سماعت کے دوران بتایا گیا تھا کہ مینگ وانژو نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی اور انہوں نے 2009 سے 2014 کے درمیان ایک فرضی کمپنی بنا کر ایران کے ساتھ معاملات طے کیے۔

عدالت کے مطابق مینگ وانژو نے ‘اسکائی کام’ نامی کمپنی بناکر ہواوے کو فائدہ دیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ایک الگ ادارہ ہے۔

مینگ وانژو کی گرفتاری کے بعد امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے کشیدہ تجارتی تعلقات میں مزیدہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں