39

مقبوضہ کشمیر: جماعت اسلامی کا پابندی کےخلاف عدالت جانے کا فیصلہ

بھارت کے زیرتسلط جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی نے اس پر عائد پابندی کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بھارتی حکام نے جماعت کے تحت چلنے والے اسکولوں اور دیگر جائیدادوں کو سیل کردیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق قابض حکام نے گزشتہ ہفتے جماعت اسلامی کے 400 سے زائد کارکنان اور رہنماؤں کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد جماعت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

بھارتی حکام نے جماعت اسلامی کی ملکیت کئی جائیدادوں اور کارکنوں کی رہائش گاہوں کو بھی قبضے میں لیا تھا۔

سری نگر کے ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی کئی شہریوں میں رہائش گاہوں سمیت کئی جائیدادوں کو سیل کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔

سری نگر سے جاری جماعت اسلامی کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘جماعت اسلامی کی اسلامی تعلیمات کی تبلیغ بنیادی ترجیح ہے اور اس حوالے سے قانونی ماہرین سے مشاورت کی جارہی ہے’۔

اعلامیے کے مطابق ‘جماعت اسلامی کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اس لیے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے’۔

جماعت کے تحت چلنے والے اسکول سیل
مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے فلاح عام ٹرسٹ (ایف اے ٹی) کے تحت چلنے والے اسکولوں کو بھی سیل کردیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ طلبہ متاثر ہوں گے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے اسکولوں کو سیل کرنے سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوں گے اور وادی میں تعلیمی بحران جنم لے سکتا ہے۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے بھارتی حکام کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جی این ور نے اپنے بیان میں کہا کہ ایف اے ٹی مکمل طور پر تعلیم سے جڑی ہوئی تنظیم ہے اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے سلیبس کے مطابق منظور شدہ پرائیویٹ اسکول ہیں اور اسی قانون پر عمل پیرا ہیں جس پر دوسرے اسکول ہیں’۔

پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ تقریباً 325 اسکولوں میں ایک لاکھ بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اور بند کرنے کی کوئی بھی کوشش تعلیمی شعبے کو متاثر کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں پر پابندی کے فیصلے سے پہلے سے موجود تعلیمی بحران مزید گھمبیر ہوجائے گا۔

جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے اسکولوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان اسکولوں میں زیرتعلیم اکثر بچے غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ان کے لیے واحد ذریعہ ہے جہاں کم فیس میں معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ایف اے ٹی کے تحت چلنے والے اسکولوں کے حوالے سے کئے گئے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور جماعت اسلامی اور ایف اے ٹی ایف کو الگ پیرائے میں دیکھا جائے اور اگر کوئی شک ہوتو سلیبس کو بھی دیکھا جائے۔

جی این ور نے کہا کہ ان اسکولوں میں 10 ہزار سے زائد افراد ملازمت میں جڑے ہوئے ہیں اور وہ بے روزگا ہوجائیں گے اس لیے یہ پابندی ہمیں دونوں طرف سے متاثر کررہی ہے۔

جماعت اسلامی پر پابندی کی مذمت
مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے جماعت اسلامی پر بھارتی حکام کی جانب سے عائد کی گئی پابندی اور اسکولوں اور دیگر جائیدادوں کو سیل کرنے کی مذمت کی گئی۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے جاری اعلامیے میں اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے سیکڑوں کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ آرٹیکل 370 اور35 اے کے تحت کوئی ظلم کیا گیاتو کشمیری متحدہ ہوکر مزاحمت کریں گے۔

محمد اشرف صحرائی، آغا سید حسن الموسوی، شبیر احمد ڈار، مشتاق الاسلام، متحدہ مجلس علما، تحریک وحدت اسلامی، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جمیعت اہل حدیث اور کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ جماعت اسلامی فعال تنظیم ہے اور فلاحی کاموں کے لیے جانی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پر پابندی مقبوضہ کشمیر کے مذہبی طبقے پر حملے کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 14 فروری کو بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد فورسز کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک کئی جوانوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں معمولات زندگی معطل ہیں اور فورسز نے کئی حریت رہنماؤں کوگھروں میں نظر بند کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں