25

پھانسی کے پھندے جیسی ڈوری کے ساتھ جیکٹ متعارف کرانے پر تنازع

حال ہی میں برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ہونے والے فیشن شو میں دنیا کے بڑے بڑے اور معروف فیشن ہاؤسز نے نت نئے ڈیزائن پیش کیے۔

اسی فیشن ہاؤس میں جہاں فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل جی جی حدید نے پہلی بار برطانوی فیشن ہاؤس’بربرے‘ کی ملبوسات پیش کیں۔

وہیں اسی فیشن ہاؤس کی جانب سے متعارف کیے گئے ایک جیکٹ کے ڈیزائن پر تنازع کھڑا ہوگیا۔

’بربرے‘ کی جانب سے ’موسم خزاں‘ کے لیے پیش کیے گئے ایک ’ہوڈی‘ جیکٹ پیش کیا گیا، جو پھانسی کے پھندے جیسی ڈوری کے ساتھ تھا۔

فیشن ہاؤس کی جانب سے یہ جیکٹ اور اس طرح کی دیگر ملبوسات خصوصی طور پر نوجوانوں کے لیے پیش کی گئی تھیں۔

تاہم پھانسی کے پھندے جیسی ڈوری سے مشابہ ڈیزائن کے ساتھ جیکٹ کو پیش کیے جانے پر فیشن ہاؤس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پر سخت تنقید کیے جانے کے بعد فیشن ہاؤس نے متنازع جیکٹ پیش کرنے پر معزرت کی اور اس جیکٹ کی فروخت بھی روک دی۔

جیکٹ کی تشہیر کی تصاویر کو بھی فیشن ہاؤس کی جانب سے ڈیلیٹ کردیا گیا—فوٹو: ڈریپرس آن لائن
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جیکٹ کی ڈیزائن پر تنقید کے بعد فیشن ہاؤس ’بربرے‘ کے صدر اور کریئیٹو ڈائریکٹر نے معاف مانگ لی۔

فیشن ہاؤس کے چیف ایگزیکٹو افسر ’سی ای او‘ مارکو گباتی نے اپنے بیان میں لوگوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ فیشن ہاؤس متنازع جیکٹ پیش کرنے اور اس سے عوام کو تکلیف پہنچنے پر معزرت خواہ ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اس جیکٹ کو موسم خزاں میں فروخت کرنے سے روک دیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس جیکٹ کی ڈیزائن کی تمام تصاویر کو بھی انٹرنیٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔

فیشن ہاؤس کے کریئیٹو ڈائریکٹر رکارڈو ٹسکی نے بھی متنازع جیکٹ پیش کرنے پر معافی مانگی اور تسلیم کیا کہ اس کا ڈیزائن غیر سنجیدہ تھا۔

رکارڈو ٹسکی کے مطابق اگرچہ اس جیکٹ کا ڈیزائن خیالی تھا، تاہم یہ غیر سنجیدہ اور لوگوں کو تکلیف پہنچانے والا تھا۔

اس جیکٹ پر تنازع اس وقت سامنے آیا جب ماڈل لز کینڈی نے انسٹاگرام پر اس حوالے سے طویل پوسٹ کی۔

لز کینڈی نے اپنی طویل پوسٹ میں فیشن ہاؤس کے جیکٹ کی تصاویر سمیت فیشن ہاؤس کی جانب سے اس حوالے سے لکھی گئی پوسٹ بھی شیئر کی۔

لز کینڈی کا کہنا تھا کہ ’خودکشی فیشن نہیں ہے اور نہ ہی وہ گلیمر ہے‘۔

ماڈل کا کہنا تھا کہ بربرے نے فیشن شو میں پیش کی گئی اپنی مصنوعات کو نوجوانوں کے لیے پیش کرنے کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی انہوں نے جیکٹ میں پھانسی کے پھندی جیسی ڈوری دے کر پیش کیا۔

لز کینڈی کے مطابق فیشن ہاؤس نے خطرناک ڈیزائن کے ساتھ پیش کی گئی جیکٹ کو نوجوانوں اور خصوصی طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے پیش کیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے نوجوان متاثر ہوں گے۔

ماڈل نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ دنیا بھر میں خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور ہمیں تشدد کی بھیانک تاریخ کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ جیکٹ کو اس سے بہتر ڈیزائن کے ساتھ بھی پیش کیا جا سکتا تھا۔

لز کینڈی کی جانب سے جیکٹ پر تنقید کیے جانے کے بعد دیگر افراد نے بھی فیشن ہاؤس پر تنقید کی تھی، جس کے بعد بربرے کو معزرت کرنی پڑی اور اس جیکٹ کی فروخت کو بھی روکنا پڑا۔

خیال رہے کہ ماضی میں لز کینڈی ’بربرے‘ کی مصنوعات کی تشہیر کر چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں