23

شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے تو ایوان نہیں چلنے دیں گے، خورشید شاہ

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی صورت میں پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے کی دھمکی دی ہے۔

اپوزیشن نے قائد حزب اختلاف شہباز کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے اور اس سلسلے میں بھرپور مخالفت کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ کوئی شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر تو دکھائے، ایسا ہوا تو حکومت قومی اسمبلی کی کارروائی بھی نہیں چلا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحریک انصاف کے اراکین ایوان میں رقص کرتے رہے اور ٹیبل پر کھڑے ہو جاتے تھے اور حکومت نے ڈگر نہ بدلی تو اپوزیشن کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ قائد حزب اختلاف اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی) کے سربراہ شہباز شریف گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب کی حراست میں ہیں اور وہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جانے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت بھی کر رہے ہیں۔

اپوزیشن قائد حزب اختلاف سے مستقل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اسی وجہ سے وہ قومی اسمبلی کی تین کمیٹیوں سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو نیب کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے رضاکارانہ استعفے کے نتیجے میں اپوزیشن کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا ہے۔

سینئر سیاستدان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر اسد قیصر، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وجہ سے پارلیمنٹ کو چلانے کی کوشش کی لیکن اسمبلی کو بے توقیر طریقے سے چلانے نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اسمبلی کو کنٹیر کی طرح چلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسمبلی میں بھی کنٹینر کی سیاست کر رہے ہیں۔

خورشید شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی سربراہ کرسٹین لیگارڈے سے ملاقات کو قوم کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی آئی ایم ایف چیف سے ملاقات کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں اور عمران خان پاکستان کی تذلیل کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔

اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کشکول توڑنے اور خود کشی کا اعلان کرنے والا خود آئی ایم ایف کے سامنے پیش ہوا۔

خورشید شاہ نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی تاریخ ہے کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے اور اب بھی ایم کیو ایم حکومت کو بلیک میل کر کے فائدہ لے گی اس لیے ہم انہیں اپوزیشن کا حصہ سمجھتے ہیں، اور نہ سمجھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں