21

کھاد پرسبسڈی کا معاملہ

ڈیرہ غازی خان ( وقاص احمد لغاری ۔ پریس رپورٹر) کھاد کی سبسڈی تاحال کسانوں کونہیں ملی حکومت کسانوں کی مشکلات پر سنجیدگی سے غور کرے

جن کھاد کمپنیوں کواربوں روپے کی سبسڈی دی گیئ ھھھے انہوں نے کھاد کے ریٹ کم نہیں کیے یوریا 1850 ڈی اے پی 3500 میں فروخت کی جارھی ھے حکومتی سبسڈی وزرا کی کھاد کمپنیوں کے اکاونٹ میں جا رھی ھے حکومت کی پالیسیاں کسانوں کو ریلیف دینے کی بجاے تکلیف کا سبب بن رھی ھیں

حکومت کسانوں کی مشکلات حل کرنے میں ناکام نظر اتی ھے یہ بات کسان بورڈ جنوبی پنجاب کے صدر حافظ محمد حسین کسان اتحاد کے ضلعی راہنما غلام مصطفیٰ قیصرانی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی انہوں نے کہا نہروں کی سالانہ بندش بھل صفائی کےلیے کی جاتی ھے

مگرمحکمہ انہاراربوں روپے کے فنڈزھڑپ کرجاتا ھےنہروں کی بھل صفائی کاکام کبھی نہیں ھوا جنوبی پنجاب کی نہریں مٹی ریت جڑی بوٹیوں سے بھری پڑی ہیں

جس سے ٹیل کے کسان کو پانی نہیں ملتا گندم کی فصل کو اس وقت پانی کی شدید ضرورت ھے مگر نہری پانی کی کمی کی وجہ سے کسان شدیدمایوسی کا شکار ھے

انہوں نے کہا دریاے سندھ سے جنوبی پنجاب کےلیے نہری پانی کاکوٹہ مقرر کیا جاے انہوں نے کہا ھیڈ ترموں چشمہ بیراج تونسہ بیراج ھیڈ پنجند کی نہروں میں پانی کاحصہ ڈبل کیا جاے تو جنوبی پنجاب سے فصلوں کی پیداوار 200٪ بڑھای جا سکتی ھیں

انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کی وجہ سے اس دفعہ کاٹن اور گنا کی فصلات 50٪ کم کاشت ھوی ھیں انہوں نے کہا موجودہ حکومت اور سابقہ حکومتوں نے کسانوں کو ھمیشہ نذر انداز کیا ھے انہیں مشکلات سے نکالنے کی بجاے مشکلات میں اضافے کا باعث نیں ھیں انہوں نے کہا حکومت کھادوں پہ سبسڈی پر عملدرامد کراے وزرا کی کمپنیوں کو سبسڈی دے کر کسانوں کا مذاق بنایا جا رھا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں