21

مہمند ڈیم کے ’متنازع‘ ٹھیکیدار سے واپڈا کے مذاکرات

اسلام آباد: مہمند ڈیم کے ٹھیکے کی نیلامی کے طریقہ کار اور مفاد پر تنازع کے باوجود واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) ڈیم بنانے کے لیے 309 ارب روپے کی بولی پر وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی کمپنی ڈیسکون انجینئرنگ سے مذاکرات کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی ذخائر کو بتایا کہ واپڈا کی ڈیسکون، چائنا گیزہوبا اور ووئتھ ہائیڈرو پر مشتمل سرمایہ کاروں سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بات چیت جاری ہے جبکہ تاحال منصوبے کا ٹھیکہ باضابطہ طور پر نہیں دیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر احمد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹھیکے دار اور کلائنٹ کے درمیان مذاکرات سے 15 سے 20 فیصد چھوٹ مل سکتی ہے کیونکہ ڈیم کی تعمیر میں سب سے زیادہ ضرورت اسٹیل اور سیمنٹ وغیرہ کی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ ایک ایک شے کی طرف جائیں گے تو اس سے آپ بولی کی رقم کو 50 ارب روپے تک کم کرسکتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ واپڈا اور دیگر عوامی اداروں کی بولی میں شفاف طریقہ کار اپنانے اور تمام قواعد کی پاسداری کرنے کے دعوے کے باوجود ان کے بولی کے طریقہ کار میں کئی خامیاں ہیں جس کی مثال یہ ہے کہ ایک ٹھیکیدار نے بلوچستان میں نو لونگ ڈیم کی سب سے کم بولی 27 ارب روپے لگا کر نیلامی جیتی تھی جو بعد ازاں متنازع ہوگئی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک سال بعد واپڈا نے اس منصوبے کی دوبارہ نیلامی کروائی اور ان (سینیٹر احمد خان) کی کمپنی نے 18 ارب روپے کی بولی لگائی لیکن پہلے نیلامی جیتنے والے ٹھیکیدار نے نظر ثانی کرکے اس ہی کام کے 17 ارب روپے کی بولی لگائی اور ٹھیکہ دوبارہ جیت لیا جو ایک بڑا سوالیہ نشانہ ہے۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے واپڈا حکام نے سینیٹر احمد خان کے نولونگ ڈیم کی بولی کے نتائج کی تصدیق کی اور کہا کہ حتمی بولی 17 ارب کے بجائے 19 ارب روپے تھی۔

اس موقع پر سینیٹر شمیم آفریدی کی صدارت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نولونگ ڈیم پر خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا اور سینیٹر احمد خان اور واپڈا چیئرمین کو اس اجلاس میں مکمل ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا جائے گا۔

دوران اجلاس سینیٹرز کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واپڈا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان چند چینی کمپنیوں کے ہاتھوں پھنس گیا ہے کیونکہ چند بین الاقوامی کمپنیاں جن میں یورپی کمپنیاں بھی شامل ہیں نے کافی عرصہ قبل ہی ملک میں کام چھوڑ دیا تھا جبکہ ملک کی مقامی کمپنیوں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ بڑے منصوبے مکمل کرسکیں۔

لیفٹننٹ جنرل حسین کا کہنا تھا کہ ڈیسکون ملک کی سب سے بڑی انجینئرنگ کمپنی ہونے کے باوجود ایسے بڑے منصوبے اکیلے مکمل کرنے کی قابلیت نہیں رکھتی اور اسے چینی کمپنیوں کو بھی کام میں شراکت دار بنانا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’2 سے 3 چینی کمپنیاں ہمارے ساتھ کھیل کھیل رہی ہیں اور آپ پھنس چکے ہیں‘۔

واضح رہے کہ یورپی کمپنیاں پاکستان سے بہت عرصہ قبل جاچکی ہیں اور 2002 میں ہونے والا غازی بروتھا آخری منصوبہ تھا جسے اطالوی کمپنی نے مکمل کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ واپڈا 2 ہزار سے 3 ہزار پاکستانی انجینئرز کو دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم میں شامل کرنا چاہتی ہے جبکہ پاکستانی انجینئروں کا ماہانہ معاوضہ 45 ہزار سے بڑھا کر 2 سے 3 لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مجموعی طور پر 6 ہزار پاکستانی مہمند ڈیم اور تقریباً 15 ہزار دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے کام کریں گے جس کی وجہ سے مقامی صلاحیت بڑھے گی۔

واپڈا چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ مہمند ڈیم کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 5 سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں